کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پی ٹی آئی کے رہنماء شہباز گل کے خلاف درج ایف آئی کے خاتمے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید بلوچ نے ریمارکس دئیے کہ جب تک سیاستدان اپنے مفادات نہیں چھوڑتے،یہ ہوتا رہیگا،یہ اقتدار کی جنگ ہے،سیاستدان اقتدار کیلئے سمجھوتہ کرتے ہیں،انہوں نے شہباز گل کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب میرشکیل الرحمان پر50 ایف آئی آرزہوئیں تب بھی آپ کوآناچاہئے تھا۔عدالت نے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ پی ٹی آئی کے رہنماء شہبازگل کیخلاف درج مقدمہ کے خاتمے کیلئے درخواست انصاف لائرز فورم کی جانب سے دائر کی گئی تھی،کیس کی سماعت جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے کی جبکہ پیروی انصاف لائرز فورم کے اقبال شاہ،شمس رند اور علی حسن بگٹی ودیگر نے کی،ان کا کہناتھا کہ ایک شخص نے قلعہ عبداللہ میں شہباز گل پر بے بنیاد ایف آئی آر درج کرائی تھی،اور یہ موبائل پر ویڈیو دیکھ کر کرائی گئی،اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جب تک سیاستدان اپنے مفادات نہیں چھوڑتے،یہ ہوتا رہے گا،یہ اقتدار کی جنگ ہے،اختلافات کی نہیں،جسٹس عبدالحمید بلوچ نے درخواست گزاروکلاء سے مخاطب ہوکر یہ بھی کہاکہ جب میرشکیل الرحمان پر50 ایف آئی آرزہوئیں تب بھی آپ کوآناچاہئے تھا،تاہم بعد میں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22دسمبر تک ملتوی کردی۔
جب تک سیاستدان اپنے مفادات نہیں چھوڑتے،یہ ہوتا رہیگا،یہ اقتدار کی جنگ ہے، جسٹس عبدالحمید بلوچ

ٹیگز:
جسٹس عبدالحمید بلوچ
