کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اورمقدمات کے خاتمے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران اعظم سواتی کے خلاف مذید مقدمات درج نہ کرنے اور ڈی جی ایف آئی اے، محکمہ داخلہ بلوچستان اور آئی جی پولیس بلوچستان کو نوٹسز جاری کر تے ہوئے اعظم سواتی کو کوئٹہ سے باہر منتقل نہ کرنے کا حکم دے دیا۔بلوچستان ہائیکورٹ میں سینیٹر اعظم سواتی کے بیٹے بیرسٹر عثمان سواتی کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کی سماعت کے موقع پر اعظم سواتی کے وکیل اقبال شاہ اور نصیب اللہ ترین ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے وکلاء کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کی سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف مذید مقدمات درج نہ کئے جائیں عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف مزید کوئی بھی مقدمہ درج نہ کیا جائے ساتھ ہی عدالت نے آئی جی پولیس بلوچستان سے آئندہ سماعت پر مقدمات سے متعلق رپورٹ طلب آئی جی پولیس بلوچستان، محکمہ داخلہ اور ایف آئی اے نوٹسز جاری کر دئیے۔عثمان سواتی کی جانب سے سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف درج 5 مقدمات کو ختم کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس عامر رانا نے کی سماعت کے موقع پر اعظم سواتی کی جانب سے ایڈووکیٹ نصیب اللہ اور اقبال شاہ عدالت میں پیش ہوئے سماعت کے دوران عدالت نے اعظم سواتی کے وکلاء کے دلائل سنے جس کے بعد عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، محکمہ داخلہ بلوچستان اور آئی جی پولیس بلوچستان کو فریقین بناتے ہوئے نوٹسز جاری کر دی ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ گرفتار ملزم اعظم سواتی کو کوئٹہ سے باہر منتقل نہ کیا جائے۔ اب بلوچستان ہائیکورٹ میں اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت 20دسمبر جبکہ مقدمات کے خاتمے سے متعلق درخواستوں پر سماعت 9 دسمبر کو ہوگی۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کیخلاف بلوچستان میں مزید مقدمات درج نہ کرنے کا حکم

ٹیگز:
اعظم سواتی
