کھڈکوچہ (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ اقتدار مقصد نہیں اصل منزل بلوچ قوم کی حق حاکمیت ہے بی این پی 1970 کے نیشنل عوامی پارٹی کا تسلسل ہے جو آج تناور درخت بن چکا ہے جس کے سائے میں ہر بلوچ جی رہے ہیں ہم اقتدار اور کرسی کے پجاری نہیں ہے ہم عزت کے پجاری ہے جو ہمیں عزت دے گا ہم اس کے نسلوں تک عزت کرینگے جو ہمارے بزگوں کے پگڑی و داڑھی کا احترام کرینگے ہم ان کے عزت و احترام کرینگے انہوں نے کہا کہ اقتدار اور کرسی کی خاطر لوگ حد پار کرتے ہیں حکومت چھین جانے کے بعد لانگ مارچ کرتے ہیں وزارت چھن جانے پر بھوک ہڑتال کرتے ہیں 1998 میں اسٹبلشمنٹ نے ہمارے پارٹی کو تقسیم کرکے دولخت کیا ہم نے کوئی احتجاج نہیں کیا مگر بلوچستان میں بلوچوں کی نسل کشی آپریشن نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کرنے سڑکوں اور ویرانوں میں نوجوانوں کے مسخ شدہ لاشیں گرانے پر ضرور احتجاج کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھڈکوچہ میں گرینڈ شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ عام میں قبائلی رہنماوں حاجی میر جان محمد شاہوانی سردار زادہ ذبیع اللہ شاہوانی حاجی محمد شاہوانی سفید ریش ماما گل جان شاہوانی عبیداللہ شاہوانی میر رحیم جان شاہوانی کی قیادت میں سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ بی این پی میں شمولیت اختیار کی گرینڈ شمولیتی جلسہ عام سے بی این پی ضلعی صدر کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی بی ایس او کے مرکزی چیرمین جہانگیر منظور بلوچ بی این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری میر اختر حسین لانگو ضلعی صدر حاجی نظر جان ابابکی حاجی جان محمد شاہوانی چیرمین جاوید بلوچ سردار زادہ ذبیع اللہ شاہوانی جمیل بلوچ چیئرمین قدید محمد حسنی عبید اللہ شایوانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جلسہ سے سردار اختر جان مینگل اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی بلوچ قوم کے ننگ و ناموس ساحل وسائل پر کھبی سودے بازی نہیں کی آج اقتدار کی خاطر جو لوگ ایک دوسرے کو اسٹیج اور ٹی وی چینلز پر گالیاں دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کمیشن کے ٹیم میں شامل اسلام آباد سے آئے ہوئے ٹیم ممبروں نے ہمیں کہا کہ مسنگ پرسن کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے خواتین بچوں ماوں کی فریاد اور چیخوں سے ہمارے کلیجے منہ میں آگئے میں نے ان سے کہا کہ یہ تو ایک دن تھا مگر ہم کئی سالوں سے اسی قرب سے گزر رہے ہیں لاپتہ نوجوانوں کے ماوں بہنوں بچوں کی چیخیں سن سن کر ہمارے کلیجے پھٹ چکے ہیں مگر حکمرانوں نے کھبی ہمارے چیخیں نہیں سنی سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ہمیں وزیر اعظم بنایا جائے مجھے قبول نہیں مگر مجھے اس بوڑھی ماں کی آنکھوں سے نکلنے والی آنسو عزیز ہے جو اپنے لاپتہ بیٹے کے لیئے نکلی ہو جن کی بیٹے بازیاب ہوجائے ہمیں اقتدار میں شراکت داری نہیں چائیے اس کے بدلے ہمیں ہمارے لاپتہ نوجوان چاہئے انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ کو اپنے اقتدار کے لیئے ایک سال یا پانچ سال تک انتظار نہیں کر سکتے مگر ان بلوچ ماوں بہنوں بیٹیوں اور بچوں سے پوچھوں جو اپنے پیاروں کے لیئے 10 سے 15 سالوں سے انتظار کررہے ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پیارے زندہ ہے یا نہیں اور بیٹیوں کو یہ بھی معلوم ہو کہ وہ بیوہ ہو چکے ہیں یا ابھی تک ان کے سہاگ زندہ و سلامت ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں پھر بھی کہتے ہیں کہ ان ظلم و زیادتیوں پر اپنے زبان بند رکھیں مگر ہم بے ضمیر مردہ نہیں ہیں اور ابھی تک ہمارے ضمیر زندہ ہے انہوں نے کہا کہ مشرف آمریت کے دور میں ہمارے 700 سے زائد رہنما اور کارکن جیلوں کی سلاخوں میں پابند سلاسل رہے سیکنڑوں سیاسی رہنما اور کارکن شہید کر دیئے مگر میں ان سے پوچھتا ہوں جو قوم پرستی کے دعوے دار ہے ان کے ناک سے خون کا ایک قطرہ تک نہیں گرا اور نہ ہی ان کے ایک مرغی کسی نے بند نہیں کیئے انہوں نے کہا کہ بی این پی ایسے بے ضمیروں کے سامنے جواب دہ بھی نہیں مگر ہم بلوچ قوم کے سامنے ضرور جواب دہ ہیں تاریخ گواہ ہے بی این پی بلوچستان کے ننگ و ناموس ساحل وسائل کی کھبی سودا نہیں کیا ہیں انہوں نے کہا کہ ہر آنے والے الیکشن کے موقع پر بعض لوگ ہمیں کہتے ہیں ہم الیکشن آنے والے ہیں تو اپنے لب و لہجے تھوڑا نرمی اختیار کرو مگر میں ان سے کہتا ہوں ہمیں بلوچ قوم کی ننگ و ناموس عزیز ہے ہمیں اقتدار و کرسی وزارت و مراعات کے لیے اپنے نام کسی کی فہرست میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے کہ ہم یہاں شہد و دودھ کی نہریں بہائینگے مگر یہ دعوے ضرور کرتے ہیں کہ ہمارے ہر کارکن آنکھیں اٹھا کر چلتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اقتدار میں اپنے وطن اور یہاں کے مفلوک الحال عوام کے لیئے کچھ کر سکیں یہاں کے لوگ بجلی گیس پینے کی پانی جیسے زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
اقتدار مقصد نہیں اصل منزل بلوچ قوم کی حق حاکمیت ہے،سردار اختر جان مینگل

ٹیگز:
سردار اختر جان مینگل
