کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم آغا کی قیادت میں وفد نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم اینڈ ٹرائبل افیئر زاہد سلیم کی سربراہی میں 31 اکتوبر کے دھرنے کے مطالبات پر بحث گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری ٹو ہوم صلاح الدین نورزئی، ڈپٹی کمشنر مستونگ یاسر اقبال دشتی، ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی شریک تھے۔ وفد میں زمیندار کسان اتحاد کے چیئرمن خان آف قلات آغا لعل جان احمد زئی، انجمن تاجران بلوچستان کے سیکرٹری جنرل عمران ترین، ولی افغان، محمد جان آغا درویش، ملک بہادر ملیزئی،حسن خلجی، منظور ترین، دولت ترین، نعمت اللہ، شریک تھے۔ اجلاس میں قومی شاہراہوں سمیت کوئٹہ شہر میں بڑھتے ہوئے ڈکیتی کی وارداتوں پر ہوم سیکرٹری کو آگاہ کیا اور دھرنے کے مطالبات پیش کئے جس میں کہا گیا کہ دھرنے کے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو انجمن تاجران بلوچستان، زمیندار کسان اتحاد اور ٹرانسپورٹ یونین 14 نومبر کو پورے بلوچستان کے قومی شاہراہوں کو بلاک کرے گی۔اجلاس میں زمیندار کسان اتحاد کے چیئرمن آغا لعل جان احمد زئی نے کہا کہ آئے روز زمینداروں کے ٹرانسفارمر اور تاریں چوری کی جاتی ہیں ٹیوب ویلوں کی پورے سولر سسٹم کو چوری کیا جاتا ہے تاحال اکثر زرعی فیڈر بند ہیں۔اس موقع پر انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا کا کہنا تھا کہ تاجر کے گھی سے لوڈ ٹرکوں کو اغواء کرکے گھی چوری کیا گیا ہے اب تک انتظامیہ نے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں دکھائی اور نہ ہی سڑکوں پر لوٹ مار کرنے والوں کو گرفتار کیا جاسکا ہے ایک ماہ میں تیسرا واقعہ اس طرح کا پیش اچکا ہے مجبور ہوکر احتجاج کی راہ اختیار کی اگر اب بھی مطالبات کو عملی جامہ نہ پہنایا گیا تو ہم 14 نومبر کے پہیہ جام ہڑتال پر قائم ہیں اور تمام قومی شاہراہوں کو بلاک کرینگے۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد سلیم نے زمیندار کسان اتحاد کے چیئرمن آغا لعل جان احمد زئی کو یقین دلایا کہ ٹرانسفارمر چوری کرنے والے گروہ کو گرفتار کردیا گیا ہے اور جلد ہی چوری شدہ سامان برآمد کرائیں گے اور کہا کہ قلات میں چوری ہونے والے ٹرک میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائیگا اور اس پر ڈی سی قلات، ڈی سی مستونگ اب تک ہونے والی پیش رفت سے بھی اجلاس کو آگا کیا اجلاس کی صدارت کرنے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم زاہد سلیم کا کہا کہ تاجروں کے تمام مطالبات جائز ہیں انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تاجروں اور کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کا تحفظ یقینی بنائی گی۔اس متعلق تمام متعلقہ حکام کو بھی ہدایات دی جائیگی کہ بلوچستان جوکہ وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور اسکی بدامنی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں ایف سی اور لیویز کے اہلکاروں کو ہرنائی، پشین نوشکی میں شہید کیا گیا تاجروں کے تمام مطالبات جائز ہیں اور کوئٹہ شہر میں ہونے والی ڈکیتوں پر ڈی آئی جی کوئٹہ کو سختی سے پابند کر کے رپورٹ بھی طلب کی جائیگی۔ اور تمام قومی شاہراہوں پر اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر پیٹرولنگ اور گشت بڑھائی جارہی ہے تاکہ تاجروں،اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔انجمن تاجران بلوچستان کے تمام جائز مطالبات پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے لہٰذا مزید وہ قومی شاہراہوں کو بند نہ کریں اور کہا کہ ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جائیگی۔
انجمن تاجران بلوچستان اور زمینداروں نے مطالبات منظور کر نے کے لئے حکومت کو 14نومبر تک کاوقت دے دیا

ٹیگز:
انجمن تاجران
