پشین(ڈیلی گرین گوادر) چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے کہا ہے کہ پولیو کی راہ میں حائل تمام تر چیلجز کے باوجود ہم پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے انہوں نے تمام انتظامی حکام اور دیگر معاون اداروں کو سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام تر وسائل پولیو و ائرس کے خاتمے کے لئے بروے کارلائے جائیں تاکہ اپنی آئندہ نسلوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچایا جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین میں رواں انسداد پولیو مہم سے متعلق اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی اپریشن سینٹر سید زاہدشاہ، ایڈیشنل سیکرٹری ٹو چیف سیکرٹری اورنگ زیب بادینی، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر یاسرخان بازئی، ڈاکٹر افتاب کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالغفار کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر پولیو حکام بھی موجود تھے، اجلاس میں رواں انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیتے ہوئے مہم کے دوران درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور و خوص کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر پشین ڈاکٹر یاسرخان بازئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 24 اکتوبر سے شروع کی گئی انسدادپولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلوانے کا ہدف مقررکیا گیا ہے، جس کیلئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی تربیت یافتہ فکسڈ، ٹرانزٹ اور موبائل ٹیمیں مکمل تندہی اور جانفشانی سے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لارہی ہیں۔چیف سیکریٹری نے ضلع پشین میں انسداد پولیو مہم کو موثر اور نتیجہ خیز انداز میں چلانے کے لیے ضلعی انتظامیہ،محکمہ صحت، دیگر متعلقہ محکموں اور شراکت دار اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے آئندہ کیلئے اسے مذید مربوط اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع پشین کے ہائی رسک یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ مرکوز کریں اور اور پولیو مہم میں مقامی کمیونٹی کی شراکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہائی رسک یونین کونسلوں میں موثر پولیو مہم کے ساتھ ساتھ وہاں کی مجموعی ترقی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کریں۔انسداد پولیو مہم کے زیادہ سے زیادہ نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جدید اور تخلیقی زاویے سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک سے پولیو کے وائرس کا خاتمہ ہمارا قومی فریضہ اور ذمہ داری بھی ہے جس کے لیے ایک نئے عزم اور تخلیقی زاویے کے ساتھ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت تمام وسائل استعمال کرے گی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ انسدادپولیو مہم میں پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون یقینی بنائیں تاکہ ہمارے بچے اس موذی مرض سے محفوظ رہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر فرنٹ لائن ورکرز بچوں تک ویکسین کی رسائی ممکن بنا رہے ہیں دنیا بھر سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن ہمارے ملک پاکستان سمیت ہمسایہ ملک افغانستان میں پولیو وائرس تاحال موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، والدین ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، انہوں نے کہا کہ جب تک اس وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک بچوں کی معذوری کا خطرہ موجود رہے گا۔ چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنر پشین کو پولیو مہم کے مکمل نگرانی اور انکاری والدین کو راضی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام اور قبائلی عمائدین کے تعاون سے مقامی انتظامیہ کو انسداد پولیو مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور پولیو کو صوبے سے پاک کرنا ہوگا۔چیف سیکرٹری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہم ایک دن پاکستان سے پولیو جیسی موذی مرض کے خاتمے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔
پولیو کی راہ میں حائل تمام تر چیلجز کے باوجود ہم پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے،چیف سیکرٹری بلوچستان

ٹیگز:
چیف سیکرٹری بلوچستان
