کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی اجلاس قائد حزب اختلاف ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈرپر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے نقصانات کے ازالے کا لائحہ عمل تیار ہوناچاہئے ارکان اسمبلی کو بتایا جائے کہ امدادی سامان اور رقوم کہاں تقسیم ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی سے امدادی سامان کی دو ٹرینیں آئی ہیں بتایا جائے کہ وہ سامان کہاں گیا۔انہوں نے کہا کہ نوحصار میں ایک بار پھر سرکار قبائل کی زمینوں کو اپنے نام کر رہا ہے اس حوالے سے 1992ء میں بننے والی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ بلاپیمودہ زمینیں قبائل کی ملکیت ہیں ایک بار پھر اغبرگ اور نوحصار میں یہ مسئلہ درپیش ہے اس سلسلے کوروکا جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ،قلات،زیارت،پشین سمیت صوبے کے جن اضلاع میں گیس فراہم کی گئی ہے وہاں گیس پریشر نہ ہونے کے برابرہے پریشر کو بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے جسٹس (ر) محمد نورمسکانزئی جو اپنے آبائی علاقے میں مقیم تھے انکا تحفظ حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں حکومت ناکام رہی ہے
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے ، ملک سکندر ایڈووکیٹ

ٹیگز:
ملک سکندر ایڈووکیٹ
