کراچی(ڈیلی گرین گوادر) مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چار سال کی غفلت اور نااہلی چار ماہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتی۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر دو ہفتے بعد میڈیا سے ملاقات ہوجاتی ہے، تیسرا سال چل رہا ہے نہ نیب افسران آتے نہ گواہ آتے ہیں۔شاہد خاقان نے کہا کہ عدالتوں میں کیمرے لگائیں اور عوام کو بتائیں کیا کرپشن ہوئی ہے، جعلی کیسز بنا دیئے جاتے ہیں اور کیسز میں کچھ چلتا نہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ پانچ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں، عدلیہ کو اس معاملے پر نوٹس لینا چاہیے، مریم نواز صاحبہ کے خلاف کیس میں چار سال بعد ہائی کورٹ سے بریت ہوئی، چار سال لگ گئے انصاف ملنے پر، جعلی کیس بنانے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جعلی کیس بنانے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں، جاوید اقبال بتائیں کس کے دباؤ پر کیسز بنائے ہیں۔
لیگی رہنما نے کہا کہ احتساب کرنے والے خود کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں، قانون میں جو ترمیم کرنی تھی کردی گئی، انصاف کا نظام چلتے رہنے چاہیئے۔شاہد خاقان نے کہا کہ حکومت تیل کی قیمتوں کا تعین نہیں کرتی، تیل کی قیمتوں کا تعین اوگرا نے کرنا ہے، بجلی کے معاملات حکومت نہیں نیپرا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیوں کے لئے دس سے بارہ عناصر کو مدنظر رکھا جاتا ہے، پیٹرول لیوی کے لئے سابقہ حکومت نے معاہدے کیا ہے۔
لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ عمران خان کہتے تھے کہ وہ نیب کیسز بناتے تھے، جاوید اقبال اور عمران خان طے کرلیں کس کے کہنے پر مقدمات بنائے گئے۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ نیب کا قانون کالا قانون ہے، نیب نے تیئس سالوں میں کسی سیاستدان کے خلاف مقدمہ ثابت نہیں کیا ہے، جن اداروں نے کیسز بنائے ان اداروں کو واپس بھیجنے چاہیے، چار سال کی غفلت اور نااہلی چار ماہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتی۔

