اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف درخواست سننے کے لیے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق کہا ہے کہ اس کے لیے مزید سماعت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ دوبارہ سماعت کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل کے بعد فیصلے کے لیے وقفہ لیا اور وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو فریق بننے کی استدعا منظور کرلی۔عدالت نے کہا کہ کیس میرٹ پر سنیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ہے یا نہیں ابھی اس کے لیےمزید سماعت کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ججوں نے وزیراعظم کو گھر بھیجا تھا، جس پر وزیر قانون نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ معذرت نہ کریں، آپ نے تو مٹھائیاں بانٹی تھیں،ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کیس میں نہیں پیش ہونا نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کر رہی تو یہ بہت سنگین ہے، آرٹیکل 63 اے کا طویل سفر ہے۔
ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس 10 ججوں نے سنا، وہ ایک جج کا معاملہ تھا اور یہ پورے صوبے کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علی ظفر صاحب کا اسرار تھا یہی بینچ اس کیس کو سنے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک جج صاحب تھے، جنھوں نے جوڈیشل کونسل کا فورم استعمال کیا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا غیرجانب داری پر سوال ہے بلکہ میں کہہ رہا ہوں اگر فل کورٹ بنایا جائے تو عدالت کی تکریم میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر ہے کہ ایک ہی بینچ میں کیسز چلتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کی حاضری بارے میری رائے پر تھوڑی ناراضی نظر آئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بڑے معاملات میں بنایا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے ہمارا فیصلہ فل کورٹ کے حوالے سے دیکھی ہیں، ملک میں گورننس بڑا مسئلہ ہے
چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ نظرثانی کیس کو اس کیس سے الگ نہیں کر سکتے۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے دلائل دیے کہ اگر عدالت کہہ دے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار ہوگا تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا، ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی۔عرفان قادر نے کہا کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنے فیصلوں میں متحد ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کر رہا، ہم ہیں چلے جائیں گے لیکن آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔
عرفان قادر نےکہا کہ پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ میں بڑا فرق ہے، پرویز الہٰی کو وہ جماعت وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے، جن کو وہ ڈاکو کہتی تھی۔اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین ملک کے بڑے سیاست دان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے آئین توڑا، ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے، اب تاثر ہے کہ عدالت ان کو فائدہ دے رہی ہے۔چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہم نے زیرالتوا کیسز کا سپریم کورٹ پر بوجھ کم کیا، سپریم کورٹ کے سارے جج محنت اور لگن سے زیر التوا مقدمات کا بوبھ کم کررہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف رجسٹریوں میں بیٹھ کر وہ کیسز کی سماعت کررہے ہیں، سوشل میڈیا حقائق نا صرف بیانیہ سنتا ہے، ہم نے اس کیس میں تمام فریقین کو بات کرنے کا موقع دیا، یہ عدالت زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اس کیس میں پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے، صرف ایک نکتہ دیکھنا ہے کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اوور رول کر سکتا ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی عام عوام کی اسمبلی میں نمائندگی کرتی ہے، 18ویں ترمیم میں پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیے، بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹایاپاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل شروع کیے اور کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پارلیمنٹ کا مسئلہ عدالت میں آسکتا ہے یا نہیں، پارلیمنٹ غیر آئینی کام کرے گی تو معاملات عدالت میں آئیں گے۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں ووٹ مسترد کرنے کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، پارلیمان کے مسئلے عدالتوں میں نہیں آنے چاہئیں، سپریم کورٹ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتا،۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب پارلیمان میں آئین شکنی ہوگی یا غیر قانونی اقدام ہوگا تو معاملہ سپریم کورٹ میں آئے گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ حقائق کی بات کر رہے ہیں عدالت کے سامنے ایک قانونی سوال ہے، ماضی قریب آرٹیکل 69 کا کیس آیا تھا، آج آپ دوسری جانب کھڑے ہیں تو کہتے ہیں عدالت کا اختیار نہیں۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہا کہ اب وقت اور حالات تبدیل ہو چکے ہیں، سماعت جمعرات تک ملتوی کردیں کیونکہ مزید دلائل دینا چاہتا ہوں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بات دو دن کی نہیں ہے، عدالت نے تعین کرنا ہے وزیراعلی کا انتخاب درست تھا یا نہیں، سوال بس اتنا ہے کہ اگر ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو غلط سمجھا ہے تو ہم اس کو درست کریں، کیسز کا پنڈورا باکس نہیں کھول سکتے۔
پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ پارٹی سربراہ نے تمام اراکین کو خط لکھا، پارلیمانی پارٹی کو میرے خیال میں پارٹی سربراہ احکامات دیتا ہے۔بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ خط کب لکھے گئے کب ملے عدالت نے یہ سوال پوچھا تھا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے صرف سمجھنے کے لیے سوال پوچھا تھا، اسپیکر نے فیصلہ خط ملنے کے وقت پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں دیا۔
سپریم کورٹ کے بینچ کے تیسرے رکن نےجسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے، اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو۔
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے، تھرڈ ورلڈ ممالک میں پارٹی سربراہ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔
چوہدری شجاعت حسین کے وکیل نے کہا کہ رکن صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کراؤں گا، کچھ ایسے حقیقت پر مبنی سوالات ہیں جو عدالت میں اٹھائے گئے ہیں اور ان کا جواب دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت کا معاملہ ہے کہ کون کیسے یہ ہدایت دے سکتا ہے، ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ اور پارٹی کا ہوتا ہے، فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں،آپ 8 ججوں کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں تو 9 جج بھی سماعت کرسکتے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا، بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا، بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ توقع نہیں تھی کہ اسمبلی بحال ہونے کے بعد نئی اپوزیشن واک آؤٹ کر دے گی، عدالت نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا تھا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اپریل 2022 سے آج تک بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے، آپ شاید چاہتے ہیں کہ یہ بحران مزید طویل ہو، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گا تو کیا تب تک سب کام روک دیں، فی الحال صرف 2 مزید جج دستیاب ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کے اہم ترین معاملات کو اس لیے لٹکا نہیں سکتے کہ آپ کی خواہش ہے، آئینی اور عوامی مفاد کے مقدمات کو لٹکانا نہیں چاہیے، معیشت کی صورت حال سے ہر شہری کی طرح ہم بھی پریشان ہیں۔چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے ہے، آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس بنیاد درکار ہے، ریاست کے کام چلتے رہنے چاہئیں، جلدی مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں۔بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ جج بھی ویڈیو لنک پر کیس سن سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے الیکشن سے پہلے بھی فریقین کو بلا کر متفق کیا تھا اور حمزہ شہباز کو ضمنی الیکشن تک بطور وزیراعلیٰ برقرار رکھا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز نے پرامن اور بہترین ضمنی الیکشن میں کردار ادا کیا، اب وزیراعلی کے الیکشن کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے۔قبل ازیں سماعت کے آغاز میں عدالت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بار کے کافی صدور یہاں موجود ہیں۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظرثانی درخواستیں زیر التوا ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال بہت گھمبیر ہے، سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے اجلاس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست بھی زیرالتوا ہے، دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دے کر تمام مقدمات کو یکجا کرکے سنا جائے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کا براہ راست تعلق ہمارے فیصلے سے ہے، ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں۔تاہم پرویز الہٰی کے وکیل ایڈووکیٹ علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بار کے مطالبے پراعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔
اس دوران چیف جسٹس کا پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ ہوا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے پاس کرسی تو ہے ناں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سر کرسی کی کوئی بات نہیں، کرسی کی پرواہ نہیں کرتا، ہم نے صبح درخواست جمع کروائی تھی اسے بھی سنا جائے۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی زیر التوا ہیں، آئینی بحران سے گریز کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بحران گہرے ہوتے جارہے ہیں، پورا نظام داؤ پر لگا ہوا ہے، سسٹم کا حصہ عدلیہ اور پارلیمان بھی ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے بھی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت سے فل بینچ بنانے کی استدعا کی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کن نکات پر فل کورٹ سماعت کرے۔عرفان قادر نے کہا کہ آئین کی دفعہ 63 اے کے حوالے سے آپ اپنے حکم نامے کا پیرا گراف نمبر 1 اور 2 پڑھ لیں جس سے سب باتیں کلیئر ہوجائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے جمہوری نظام خطرے میں آسکتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف نظام کے لیے کینسر کے مترادف ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟
وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے؟جسٖٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین ڈائریکشن اور ڈیکلریشن پر واضح ہے، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کا کردار الگ الگ ہے۔
جسٹس منیب اختر نے وکیل سے کہا کہ جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈیکلریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے؟ فیصلے کے کون سے حصے پر ڈپٹی اسپیکر نےانحصار کیا اس کابتائیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 14ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا، آپ کے سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں؟
منصور اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے، 14ویں ترمیم سےآئین میں شامل کیا گیا لیکن 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے کی مزید وضاحت کی گئی۔دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کے 8 رکنی فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، 18ویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کی ہدایات کی بات کرتا تھا، 18ویں ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو پارلیمانی پارٹی سے بدل دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے، عدالتی فیصلہ خلاف آئین قرار دینے کے نقطے پر رولز موجود ہیں۔وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے، اگر پانچ رکنی بینچ کو لگتا ہے ماضی کا عدالتی فیصلہ غلط تھا تو فل بینچ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔
صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے بچایا، جسٹس اعجاز الاحسن
چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں سینئر پارلیمینٹرینز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی سربراہ آمر ہوسکتا ہے، اس کے کردار کو کم کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کو کردار بھی دیا گیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمانی نمائندوں کو آئین میں اختیارات دیے گئے ہیں، اسمبلی میں کس کو ووٹ دینا ہے اس کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے بچایا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ سے متعلق کئی ارکان نے شکایات کیں، پارٹی سربراہ کو بھی پارلیمانی پارٹی کی رائے سننی ہوگی۔
وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ 4 سیاسی جماعتوں کے سربراہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، جے یو آئی (ف) پارٹی سربراہ کے نام پر ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، عوام جسے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتے ہیں ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں تمام اختیارات پارلیمانی پارٹی کے پاس ہوتے ہیں، برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یعنی ووٹ مسترد ہونے کی حد تک عدالتی فیصلہ تسلیم شدہ ہے، سوال صرف ڈپٹی اسپیکر کی تشریح کا ہے کہ درست کی یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلہ کہ درست تشریح کی، سوال یہ بھی ہے کہ کیا ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کی غلط تشریح تو نہیں کی۔ساعت کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کارروائی میں ایک بات پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعوان نوجوان ہیں اور ان کے کندھوں پر بہت بوجھ ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ منصور اعوان بہت بہترین دلائل دے رہے ہیں، عدالت نے منصور اعوان کو وزیر قانون سے ہدایات لینے سے روک دیا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منصور اعوان وزیر اعلیٰ پنجاب کے وکیل ہیں، وہ وزیر قانون سے کیسے ہدایات لے سکتے ہیں۔
منصور اعوان نے کہا کہ عمران خان کی ہدایات کو الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا، الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ کیا، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا اس معاملے سے تعلق کیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام پارٹی اراکین کو چوہدری شجاعت کا خط اجلاس شروع ہونے سے پہلے موصول ہو گیا تھا۔
منصور اعوان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کے پہلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہدایات عمران خان نے دی تھیں، الیکشن کمیشن نے عمران خان کی ہدایات پر ارکان کو منحرف قرار دیا، منصور اعوان نے عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت بھی عدالت میں پیش کر دی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کے پہلے اور اب کے کیس میں فرق ہے، الیکشن کمیشن میں ارکان کا مؤقف تھا کہ انہیں پارٹی ہدایت نہیں ملی، موجودہ کیس میں ارکان کہتے ہیں پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی ہدایت کے نقطے پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا، منحرف ارکان اور اس کیس کے حقائق مختلف ہیں، منحرف ارکان کا مؤقف تھا کہ ہمیں شوکاز اور ہدایات نہیں ملیں، یہاں پر ایشو مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام 10 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا، کسی رکن نے دوسری طرف ووٹ نہیں دیا، تمام ارکان نے ایک طرف ووٹ ڈالا، دس ارکان میں میں کسی نے نہیں کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمے میں کہا کہ مقدمے کے میرٹ پر دلائل نہ دیں، فل کورٹ کی تشکیل پر دلائل دیں، دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دیے ہیں، آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، آپ دوسری سائیڈ کی فل کورٹ کی استدعا کو کیسے مسترد کریں گے؟
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے بڑا کلیئر ہے، پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹیرین پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلئیریشن دینی ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے پر عدالت پہلے ہی مفصل سماعتوں کے بعد رائے دے چکی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تسلیم کرنا ہی جمہوریت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کی آمریت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، آرٹیکل 63 اے اور اس کی عدالتی تشریح بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ فل کورٹ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے، 15 مقدمات میں چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا ہے، فل کورٹ سے عدالت کو دوسرا سارا کام روکنا پڑتا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 2015 کا عدالتی فیصلہ غیر آئینی ہے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، فل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے، کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟ گزشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف 3 یا 4 کیسز میں بنا ہے، گزشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التوا کیسز کم ہو رہے ہیں۔
علی ظفر نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز عبوری وزیر اعلیٰ زیادہ سے زیادہ دیر رہیں، عدالت نے تحریک عدم اعتماد کیس چار دن میں ختم کر دیا تھا، دیگر مقدمات اس کیس کے ساتھ نتھی کرنے سے صرف وقت ضائع ہوگا، سابق بار صدور کا آنا اور دلائل دینا سمجھ سے بالاتر تھا۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ منحرف ارکان کی اپیلیں اور نظرثانی اس کیس سے منسلک کرنا زیادتی ہوگی، بحران ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے، نظرثانی کی درخواستیں صرف 5 رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے، عدالت کے سامنے بڑا سادہ مقدمہ ہے، عدالت پر ہمیں اور پوری قوم کو پورا یقین ہے۔
عدالت عظمیٰ نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت میں ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ کردیا، سماعت کا دوبارہ آغاز ساڑھے 5 بجے ہوگا۔اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صرف مدعا علیہ جماعتوں کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
اسلام آباد کیپٹل پولیس کے رابطہ افسر کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں داخلے کے لیے پارٹی رہنماؤں کی جانب سے لسٹیں مہیا کی گئی ہی، فریقین کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت سے کورٹ روم اور سپریم کورٹ میں داخلہ دیا جائے گا۔پولیس نے کہا کہ ریڈ زون بشمول سپریم کورٹ کے اردگرد ہرگز کسی جلسے، جلوس اور اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی، ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کےلیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے رولنگ دی تھی کہ مذکورہ ووٹس پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈالے گئے، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے تھے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں غیر متوقع موڑ آنے کے بعد سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری آدھی رات کو مسلم لیگ (ق) کی درخواست وصول کرنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ہدایت پر کھول دیے گئے تھے۔
جس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ (ق) کے وکیل عامر سعید راں کے توسط سے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔مذکورہ درخواست پر 23 جولائی کو سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو پیر تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، تاہم عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد جاری حکم نامے میں کہا تھا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیر اعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔

