کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کا صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج، وزیراعلیٰ نے مسئلے کے حل کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کردیا، بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بی این پی کے ملک نصیر احمد شاہوانی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے صوبے کو 400میگا واٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ صوبے کا حصہ 1100میگا واٹ بنتا ہے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے زراعت اور زمیندار تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں جمعیت علماء اسلام کے اصغر علی ترین اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے نے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ زمیندار پریشان ہیں صوبے کے مقامی کیسکو چیف سے توقعات وابستہ تھیں مگر انہوں نے قیامت برپا کردیا ہے کوئٹہ شہر سمیت کہیں بھی بجلی کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے عوام پریشان ہیں وزیراعلیٰ کمیٹی بنائیں جو وفاق سے بات کرے اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف ایوان میں اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جبکہ پی ٹی آئی کے مبین خلجی اور پشتونخواء میپ کے نصر اللہ زیرے کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا بعدازاں وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنی تقریر کے دوران بجلی کے مسئلے پر وفاقی حکومت سے بات کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کا صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج

ٹیگز:
بلوچستان اسمبلی
