کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ کی زیر صدارت گندے پانی سے فصلوں کی کاشت کو تلف کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق، ڈائریکٹر بلوچستان فوڈ اتھارٹی طارق حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ریاض، ڈپٹی ڈائریکٹر شاہجہان، ایف ایس او ڈاکٹر باسط کے علاوہ متعلقہ زمینداران میں محمد حسن، آغا محمد اور ملک صادق کاسی بھی موجود تھے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کوئٹہ شہر میں سیوریج کے پانی سے فصلوں کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے عدالت عالیہ کے حکم پر شہر میں گندے پانی سے کاشت پر تمام فصلوں کو فوری طور پر تلف کیا جائے گا اس سلسلے میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ متواتر کاروائیاں کر رہی ہیں لہٰذا تمام کاشتکاروں اور ذمہ داروں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ سیوریج کے پانی سے فصلوں کی کاشت نہ کریں وگرنہ سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مکمل کاشت کو تلف کر کے متعلقہ زمیندار کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی اجلاس میں زمینداروں نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی کہ موجودہ فصلوں کو تلف نہ کریں تاکہ زمیندار اپنی آخری فصلیں اْٹھائیں اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ان کے مطالبہ کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں عدالت عالیہ کے حکم کی پاسداری کی تائید کرنے بکی ہدایت کی اجلاس میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کوئٹہ شہر میں سیوریج کے گندے پانی سے کاشت فصلوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گندے پانی سے کاشت فصلوں کی وجہ سے کوئٹہ میں خطرناک مرض جسمیں کینسر سرفہرست ہے پھیل رہا ہے کیونکہ گندے پانی میں خطرناک کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے لہذا گندے پانی کی فصلوں کے خلاف موثر کاروائیاں ناگزیر ہیں اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی روزانہ کی بنیاد پر انکے خلاف کارروائی کر کے فصلیں تلف کر رہی ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ نے کہا کہ انسانی صحت سے کھیلنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی گندے پانی سے کاشت کی گئی تمام فصلوں کو جلد از جلد تلف کیا جائے اس سلسلے میں زمیندار حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور گندے پانی سے فصل کاشت کرنے سے اجتناب کریں بصورت دیگر انتظامیہ کی کاروائیاں جاری رہیں گی۔
انسانی صحت سے کھیلنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، شہک بلوچ

ٹیگز:
شہک بلوچ
