کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ تحریک عدم لانے والے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے لئے کاروائی کے حق میں نہیں ہوں، کابینہ میں رد و بدل نہیں کی جارہی البتہ بی این پی اور جمعیت علماء اسلام کابینہ میں شامل ہونگی تو خوشی ہوگی، بی اے پی کے انتخابات آئندہ دس روز میں کروائیں گے، کرپشن سمیت ذاتی نوعیت کے الزامات بے بنیاد ہیں، یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری سینیٹر منظور خان کاکڑ، صوبائی وزیر محمد خان لہڑی،ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ، وزیراعلیٰ کے پولیٹکل سیکرٹری ملک خدا بخش لانگو بھی انکے ہمراہ تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک عدم میں اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا اور تحریک ناکام ہوئی میرا کسی بھی کوئی اختلاف نہیں ہے بی اے پی کے تمام ارکان میرے لئے برابر ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے کوشش تھی کہ سب کو اکٹھا کر سکیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا اب بھی تمام ارکان سے رابطہ کر کے انہیں ایک کرنے کی کوشش کرونگا اور امید ہے اکھٹے ہوکر صوبے کی بہتر ی کے لئے کام کریں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا کام آپس میں لڑنا نہیں ہے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ایسے وقت میں اگر ہم اختلافات کا شکار رہیں گے تو ہم لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اترسکیں گے تحریک لانے والے دوستوں سے رابطہ کرونگا میرے دل میں انکے لئے کچھ نہیں ہے ہم ایک دوسرے کیساتھ تعاون کر کے عوام اور صوبے کی خدمت کریں گے انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،مولانا عبدالغفورحیدری، مولانا عبدالواسع، پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور نواب ثناء اللہ زہری،پشتونخواء میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی،نصر اللہ زیرے سمیت تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے غیر جانبداری کا مظاہر ہ کیابی اے پی، پی ٹی آئی،بی این پی عوامی، ایچ ڈی پی، اے این پی، جے ڈبلیو پی، پی این پی عوامی سمیت تمام جماعتوں کا بھی مشکور ہوں کہ انہوں نے ساتھ دیتے ہوئے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ تحریکیں آنا جمہوریت کا حسن ہے اس سے ہم متحرک ہوتے ہیں اور ارکان و عوام سے جڑ جاتے ہیں بلوچستان میں تحریکیں آتی رہتی ہیں لیکن اس تحریک سے ہم اندرونی طور پر مضبوط ہوئے البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ تحریک لانے کا وقت انتہائی نا مناسب تھا اس وقت ہم بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں اس وقت میں مشکلات زیادہ ہوتی ہیں مشکلات کے باوجود ہم کامیاب رہے انہوں نے کہا کہ کسی کے بیان کا جواب نہیں دینا چاہتا میں عوام کی خدمت کے لئے آیا ہوں بیانات کا جواب دینا یا کسی کے خلاف بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا لوگ باتیں کرتے ہیں کہ ارکان کا حکومت سے اعتماد اٹھ گیا ہے آج تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور تحریک ٹیبل بھی نہیں ہوسکی انہوں نے کہا کہ عوام اور صوبے کے لئے پہلے بھی کام کر رہے تھے آئندہ بھی کر تے رہیں گے کرسی آنی جانی چیز ہے جب تک ہے ہمیں کام کرنا چاہیے ایک سوال کے جواب میں میر عبدالقدو س بزنجو نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور بی این پی حکومت کو شامل ہونے کی دعوت دی تھی تاہم اب تک انہوں نے کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ حکومت میں شامل ہورہے ہیں یا نہیں انہوں نے کہا کہ جام کمال خان محترم ہیں وہ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں ہمارا کام عوام کی خدمت کی ذمہ داری ادا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ لیکر آنے والے اراکین اسمبلی کیا ایسے وزیراعلیٰ کو قبول کریں گے جو سارا دن سوتا رہے سونے یا کرپشن والی کہانیاں حقیقت نہیں ہیں تمام چیزیں عوام کے سامنے ہیں حکومت میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں مگر ہماری طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جارہی الزامات لگانا ہمارا شیوہ نہیں ہے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ وہ کام کرے اگر کسی نے کام نہیں کیا تو وہ انکا ضمیر ہے انہوں نے کہا کہ جام کمال خان پارٹی صدر رہے ہیں اب وہ صدر نہیں ہیں انہوں نے ٹوئٹ کر کے خود استعفیٰ دیا تھا جب کوئی اپنی پارٹی کے رکن کے خلاف تحریک لائے اس سے قبل طریقہ کار پر عملدآمد کرنا پڑتا ہے پارلیمانی گروپ میں اگر اکثریت ہے تو وہ ظاہر کرتے کہ گروپ وزیراعلیٰ نہیں چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا کوئی رکن ڈی سیٹ ہوگا تو یہ ہماری ناکامی ہوگی جام کمال خان نے پہل کی جس کے بعد ہم نے قانونی چارہ جوئی کی آئین کے تحت پارلیمانی گروپ کی اکثریت کی رائے تسلیم ہوتی ہے جام کمال خان نے خط لکھاجس کے جواب میں ہم نے انہیں خط لکھا جواب دینے کا مقصد کسی کا استحقاق مجروح کرنا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو ڈی سیٹ نہیں کریں گے ہر جماعت میں دھڑے ہوتے ہیں ہر گروپ کا اپنا موقف ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑیں گے اور آئندہ ایک ہفتے سے دس روز میں پارٹی انتخابات کروائیں گے انہوں نے کہا کہ ساتھ چلنے والوں کو ساتھ لیکر چلیں گے ہم وقت ضائع کرنے کے بجائے کام کریں گے کسی کی منتیں نہیں کریں گے فی الحال کابینہ میں رد وبدل نہیں کی جارہی ہے بی این پی اور جمعیت علماء اسلام کابینہ میں شامل ہوتے تو ہم اسکے لئے خوشی سے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کی دعاؤں سے ہمیشہ کامیابی حاصل کی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کرپشن سمیت ذاتی نوعیت کے الزامات بے بنیاد ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

ٹیگز:
وزیراعلیٰ بلوچستان
