اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر کو آج رات ساڑھے 11 بجے طلب کرلیا۔
تحریک انصاف نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ پی ٹی آئی کے وکلا فیصل فرید، علی بخاری اور دیگر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ دفتری اوقات ختم ہونے کے باوجود ہائی کورٹ کو کھول دیا گیا۔ ان کے ساتھ فواد چوہدری، ذلفی بخاری، فرخ حبیب اور دیگر رہنما بھی ہائی کورٹ پہنچے۔
شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی نے ان کی بیٹی ایمان مزاری کی جانب سے بطور پٹیشنر درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہمیں نہیں معلوم شیری مزاری اس وقت کہاں ہیں؟ اور انہیں کس جرم میں اٹھایا گیا کچھ معلوم نہیں، استدعا ہے کہ شیری مزاری کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ڈاکٹر شیریں مزاری کی بازیابی کی درخواست چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو پیش کردی گئی اور انہیں گھر پر ہی اس فوری نوعیت کے مقدمے سے آگاہ کیا گیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر بڑا حکم جاری کرتے ہوئے آج رات ساڑھے 11 بجے عدالت لگانے کا فیصلہ کرلیا۔چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو طلبی کے نوٹسز جاری کردیے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ پیش ہو کر بتائیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی گئی؟

