کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں،انتخابی امیدواروں،الیکشن اور پولنگ ایجنٹس کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا،ضابطہ اخلاق کے تحت پارلیمنیٹرینزکو الیکشن کمیشن کے قواعد،احکامات و ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی،تاہم صدر،وزیراعظم،چیئرمین سینیٹ،اسپیکروڈپٹی اسپیکر،گورنرز،وزرائے اعلی،وزراء،اور ان کے مشیروں سمیت عوامی عہدے رکھنے والے انتخابی مہم یاکسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔ جبکہ مقامی حکومتوں کی انتخابات کیلئے جلسہ عام،جلوس یا کار ریلیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن کے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں،انتخابی امیدوار،الیکشن ایجنٹس پولنگ کے دن انتخابی مواد،عملے اور ایجنٹس کے تحفظ کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے تعاون کریں گے، جبکہ سیاسی جماعتیں مردوں اور عورتوں کو انتخابی عمل میں شرکت کیلئے مساوی مواقع فراہم کرنیکی حتی الوسع کوشش اور انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں گی،ضابطہ اخلاق کے مطابق ممبر یونین کونسل 30 ہزار اور ممبر میونسپل کمیٹی 50 ہزار روپے کے انتخابی اخراجات کے پابند ہوں گے جبکہ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل 70 ہزاراور ممبر میونسپل کارپوریشن ایک لاکھ روپے تک کے انتخابی اخراجات،میٹروپولیٹن کارپوریشن ایک لاکھ 50 ہزار اور چیئرمین /وائس چیئرمین آف کونسل دولاکھ روپے کے اخراجات کرسکیں گے ضابطہ اخلاق کے مطابق مقامی حکومتوں کے انتخابات کیلئے جلسہ عام،جلوس یا کار ریلیوں کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم انتخابی امیدوار مقامی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دیکرکارنر میٹنگ کرسکتے ہیں،انتخابی مہم اور پولنگ کے دن کسی بھی قسم کے ہتھیاراورآتشیں اسلحہ لے جانے یانمائش پر مکمل پابندہوگی اسی طرح ہورڈنگز،بل بورڈز،دیواروں پر لکھائی اور کسی بھی سائز کے پینافلیکس پر مکمل پابندی ہوگی،بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 29 مئی کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے ضابطہ اخلاق جاری کردیا

ٹیگز:
الیکشن
