اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے معاملات میں دخل اندازی ہے، فیصلہ کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کا اختیار کسی کو لینےکا اختیار نہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا تھا کہ کیا یہ درست ہوتا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے کام میں مداخلت کرے،کیا یہ درست ہوتا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کےججز کے آنے اور جانےکا فیصلہ کرتی، کیا یہ درست ہوتا کہ پارلیمنٹ فیصلہ کرتی کون سا کیس کب لگنا ہے۔
اسد عمرکا کہنا تھا کہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کا اختیار کسی کو لینےکا اختیار نہیں، جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پارلیمنٹ کی بالادستی کا یقین ہونا ضروری ہے، ایوان کو یکجا ہوکر آواز بلند کرنی چاہیےکہ جو پارلیمان کا اختیارہے وہ کسی اور کا نہیں۔
خیال رہےکہ حکومت نے عدم اعتماد پر از خود نوٹس کیس کے لارجر بینچ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کردی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کے 7 اپریل 2022 کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
اسد عمر نے یہ درخواست بابراعوان اور محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا 7 اپریل کا حکم واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ قومی اسمبلی کو آرٹیکل 69 کے تحت ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتی۔

