کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)مجلس برائے قواعد انضباط کار واستحقاقات کی نشست چیئرپرسن کمیٹی شائینہ کاکڑ کے زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انجینئر زمرک خان اچکزئی، اختر حسین لانگو، زینت شاہوانی کے علاوہ سیکریٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکریٹری اسمبلی عبدالرحمن سیکریٹری ماہی گیری، سیکریٹری قانون نے شرکت کی۔ اجلاس پبلک اکاونٹس کمیٹی کے استحقاق کمیٹی کااجلاس محکمہ ماہی گیری کا پی اے سی کے اجلاس میں عدم شرک کے بابت ہوئی۔دوران اجلاس محرک اختر حسین لانگو نے کہا کہ 15 دسمبر کو محکمہ ماہی گیری نے اجلاس میں شرکت نہ کر کے پی اے سی اور اسمبلی کے استحقاق کو مجروع کیا۔ اسمبلی کے کاروائیوں کو کمیٹیز چلاتے ہیں۔ اسمبلی تو ایک چہرہ ہے۔ کمیٹیز کے سفارشات کے بل بوتے پر قانون بنتے ہیں ہمارا کسی آفیسر کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ ہم نے کوشش کی ہے پی اے سی کے فورم پر مسائل حل ہو لیکن کچھ محکمے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب تک ہم نے سوا ارب تک ریکورئیاں کی ہے۔ اختر حسین نے مزید کہا کہ کمیٹی کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات ہیں اگر ہم استعمال کرتے تو ہم اپنے یہ اختیارات استعمال کرسکتے تھے۔ لیکن بلوچستان کے روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے صوبے کے آفیسران پر پریشر نہیں ڈالنا چاہتے ہے لیکن محکمہ ماہی گیری کی وجہ سے پی اے سی کا رپورٹ اب تک مکمل نہیں ہوا۔ متعلقہ محکمہ کے سیکریٹری نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ میری بیس سالہ سروس میں میری یہ پہلی غلطی ہوئی ہے۔ جس کے لئے میں پی اے سی اور ممبران اسمبلی سے معافی چاہتا ہوں انھوں نے مزید کہا کہ اسمبلی اور اسکے تمام کمیٹیز ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ ان اداروں کی عزت اگر ہم نہیں کرینگے تو کوئی بھی نہیں کرئے گا۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان دنوں گوادر دھرنے کی وجہ سے پی اے سی کے ساتھ رابطہ نہیں کر سکے۔ دوران اجلاس سیکریٹری اسمبلی نے کہا کہ سیکریٹری کو محکمہ نے غلط بریفنگ دی ہے کہ متعلقہ محکمے کے جوابات پی اے سی کو بھجوائے گئے تھے جبکہ محکمہ کی جانب سے کوئی بھی ڈاکومنٹ پی اے سی نے وصول نہیں کی۔ اجلاس کے دوران زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ متعلقہ سیکریٹری ہمارے مکران کے لوگوں کا خیال رکھے ٹرالر مافیا ہمارے غریب عوام سے انکا نوالہ چھین رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ممبران ایک کروڈ بیس لاکھ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور چیئرمین پی اے سی اچھے انداز میں کام کر رہے ہیں لیکن محکموں کو بھی کمیٹیز کے ساتھ بر پور تعاون کرنا چاہیئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ روایات کا خیال رکھتے ہوئے چئیرمین پی اے سی درمیان کا راستہ نکالائیں۔ چئرمین پی اے سی نے کہا کہ میں یہ اختیار استحقاق کمیٹی کو دیتا ہوں وہ جو بھی فیصلہ کریں۔ چیئرپرسن کمیٹی شاہینہ کاکڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کے استحقاق کو مجروع کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ چئیرپرسن نے کہا چونکہ متعلقہ محکمہ کے سیکریٹری نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے لہذا اسلئے انھیں آج پابند کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ ایسے غلطی سے اجتناب کریں۔ انھوں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ مورخہ 24 مارچ کو متعلقہ محکمہ پی اے سی کے اجلاس کے لئے تیاری کریں اور پی اے سی کے محکمہ ماہی گیری کے لئے مختص اجلاس میں اپنے تیاری کے ساتھ شرکت کریں
بلوچستان کے روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے صوبے کے آفیسران پر پریشر نہیں ڈالنا چاہتے، اختر حسین لانگو

ٹیگز:
اختر حسین لانگو
