کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے بعد شہریوں کے چہرے کھل اٹھے اور جہاں ہر سو سفیدی ہی سفیدی دکھائی دی وہیں گرما گرم چائے کی محافل بھی سج گئیں۔بلوچستان میں نئے سال کا آغاز برف باری اور بارشوں سے ہوا محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ زیارت مسلم باغ قلعہ سیف اللہ اور اطراف کے پہاڑوں پر برف پڑی۔
گو وطن عزیز کے ان خوبصورت علاقوں میں چائے و قہوہ ویسے بھی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن یخ بستہ موسم نے ہیڑ و انگیٹھیوں کی شفیق گرماہٹ میں سجی چائے کی محافل اور خوش گپیاں بڑھا دیں۔ ان مواقع پر گیس کی قلت نے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی تاہم لکڑیوں نے کافی حد تک معاملہ سنھبال لیا۔
کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ ميں چار سو سفیدی چھا گئی اور ساتھ ہی ابر باراں نے کوئٹہ میں 8 ملی میٹر، مسلم باغ میں 2 اور لورالائی میں ایک ملی میٹر بارش برسائی۔مستونگ، قلات، خضدار، پشین۔ گوادر، چاغی اور دالبندین میں بھی ہلکی بارش و بوندا باندی ہوئی۔ طویل عرصے بعد بارشوں اور برفباری کی وجہ سے شہریوں خاصے مسرور دکھائی دیے جس کے بعد کوئی حسین موسم کا لطف اٹھانے باہر دوڑا تو کوئی گرما گرم قہوہ سے محظوظ ہوا۔
ایک شہری کا کہنا تھا کہ بارشوں اور برفباری کے سبب سردی بے انتہا بڑھ گئی ہے لیکن گیس نہ ہونے کے باعث شہری لکڑیاں جلانے پر مجبورہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق ژوب میں منفی 3، کوئٹہ منفی 2، قلات صفر جبکہ خضدار میں کم سے کم درجہ حرارت 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ بارشوں اور برف باری کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

