کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے گورنر بلوچستان کی جانب سے آرڈیننس کے زریعے جلسہ جلوس دھرنا اور اظہار آزادی پر پابندی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں ریاستی آرڈیننس کی مذمت کی ہے کہ بلوچستان کی نااہل و جعلی طورپر مسلط کردہ حکومت نے پہلے ایوان صدر اور اب گورنر ہاوسز کو آرڈیننسز کا فیکٹری بنا دیا ہے اسمبلیوں کی موجودگی میں ایسے آرڈیننسز جاری کی جارہی ہیں جو براہ راست انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔ ستم ظریفی اور بوکھلاہٹ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہیے جب بلوچستان میں طلبا بلوچستان یونیورسٹی سے لاپتہ کیئے گئے اپنے دو طالبعلم دوستوں کی بازیابی اور گوادر کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیئے دھرنے پر بیٹھے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے آرڈیننس کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی جارہی ہیے۔ جعلی حکمران اور ان کے پس پردہ عناصر کب تک عوامی مسائل سے پہلو تہی کرینگے یہ آداب حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ہیں ملک کو بند گلی میں دھکیل کر نت نئے جعلی ضابطوں پر عمل پیرا ہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا ہیکہ نو تشکیل کردہ بلوچستان حکومت نے پہلے پشتون تحفظ مومنٹ کی قیادت کے بلوچستان داخلے پہ پابندی لگایا اور کوئٹہ میں ان کو جلسہ کرنے سے روکنے کیلیئے اس غیر ضروری آرڈیننس کو جاری کرانے میں موجودہ حکومت کا سب سے بڑا ہاتھ ہیے۔اور آرڈیننس موجودہ کٹھ پتلی حکومت کے ایما پہ جاری ہوا ہیے۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں اور جموری قوتوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں اس لیئے ایسے حربے استعمال کررہے ہیں۔ پارٹی ترجمان نے واضع کیا ہیکہ ایوانوں میں ڈمی لوگوں کو بٹھا کر ملک میں عملی طورپر مارشل لا نافذ کردیا گیا ہیے جو ملک و قوم کی تقدیر سے کھیل رہیے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے ملک میں اپنے پنجھے گاڑھ کر اپنی لابی لانے میں کامیاب ہوچکا ہیے اس لیئے عوام نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں اور عوام سے احتجاج کا حق بھی چھینا جارہا ہیے جو جمہوری قوتوں کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہیے
نااہل وجعلی طورپر مسلط کردہ حکومت نے پہلے ایوان صدراوراب گورنرہاوسز کوآرڈیننسزکا فیکٹری بنا دیا ہے، نیشنل پارٹی

ٹیگز:
نیشنل پارٹی
