کوئٹہ:وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان میں صرف پشتونخوامیپ، بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی ہی نہیں۔ الحمداللہ یہاں کے باسی اپنے قبائل، سیاسی اور جغرافیائی علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 سال حکومت میں گزار کر پھر گوادر اور بلوچستان کی پسماندگی پر تقریرکرنا حیرانی کی بات ہے۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، اے این پی، ہزارہ ڈیموکریٹ پارٹی، بی این پی (عوامی) اور جے ڈبلیو پی پر مشتمل ہماری اتحادی حکومت بلوچستان میں 40 نشستوں کے ساتھ نمائندگی کر رہی ہے. انہوں نے کہا کہ پی کے میپ اور نیشنل پارٹی پانچ سال نون لیگ کے ساتھ اقتدار میں رہی۔ ہمیں بتائیں کہ سی پیک کے کون سے میگا پروجیکٹس، نیشنل ہائی وے اور موٹروے کے منصوبے بلوچستان لائے گئے۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ نولنگ ڈیم، وندر ڈیم، برج عزیز ڈیم کوئٹہ، ویسٹرن سی پیک روٹ ژوب تا کوئٹہ، کراچی چمن شاہراہ، مکران کی سڑکیں اور الیکٹرک گرڈ کے منصوبے 2013 سے 2018 تک کیوں شروع نہیں کئے گئے۔
5 سال حکومت میں گزار کر پھر بلوچستان کی پسماندگی پر تقریرکرنا حیرانی کی بات ہے،جام کمال

ٹیگز:
جام کمال
