لاہور: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ جولائی کے آغاز میں مردہ حالت میں پائی گئی ماڈل نایاب ندیم کو ان کے سوتیلے بھائی نے ’غیرت‘ کے نام پر قتل کیا تھادوران تفتیش ملزم اسلم نے ماڈل نایاب ندیم کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کرنے کے بعد انہیں برہنہ کرکے ان کے ریپ کا ڈراما رچانے کا اعتراف کیامقتولہ ماڈل متعدد اشتہارات اور تھیٹرز میں پرفارمنس کر چکی تھیں، علاوہ ازیں انہوں نے چند گانوں میں بھی پرفارمنس کی تھی اور وہ 2015 سے ڈی ایچ اے میں تنہا رہتی تھیں تاہم ان کے سوتیلے بھائی ان کے گھر آتے جاتے رہتے تھےماڈل نایاب کے قتل سے قبل بھی کچھ ماڈلز، اسٹیج ڈانسرز و شوبز سے وابستہ ملک کے مختلف علاقوں کی خواتین کو اہل خانہ اور رشتے داروں کی جانب سے قتل کیا جاچکا ہے جب کہ متعدد خواتین پر حملے بھی کیے جا چکےہیں پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں 2011 سے 2020 تک 6 ہزار 277 خواتین کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔
ماڈل نایاب کا مبینہ قاتل اس کا سوتیلا بھائی نکلا، پولیس

ٹیگز:
ماڈل نایاب
