اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ صحافیوں کو ہر گزرتے دن پر شکر ادا کرنا چاہیے اور شکرانے کے نفل پڑھنے چاہییں، کیونکہ صحافت میں معاشی بقا کے ساتھ ذہنی، اخلاقی اور زندگی کی جنگ بھی لڑنا پڑتی ہے۔اسلام آباد میں ’میڈیا انڈر دی شیڈو آف دی ڈیتھ‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہر روز اس احساس کے ساتھ گھر سے نکلتی ہیں کہ واپسی ہوگی یا نہیں۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ صحافیوں نے مارشل لاؤں کے دور میں لکھنا سیکھا، لیکن فسطائیت اور سماجی فسطائیت کے ماحول میں قلم کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق، صحافیوں کو مقبول رائے کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر بات صرف تالیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کی جاتی۔
ارشد شریف کے قتل کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ظلم کے ذمہ دار کردار کہیں نہ کہیں موجود ہیں، کچھ چھپے ہوئے اور کچھ ظاہر۔ انہوں نے فیصل واوڈا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور شخصیات سے سوال کرنا ضروری ہے، خصوصاً جب وہ اہم معلومات کے ذرائع سمجھے جاتے ہوں۔عاصمہ شیرازی کے یہ ریمارکس صحافیوں کو درپیش خطرات، آزادیٔ اظہار اور طاقتور حلقوں سے سوال کرنے کے حق پر ایک اہم بحث کو سامنے لاتے ہیں۔آپ کے خیال میں پاکستان میں صحافیوں کو آزادانہ طور پر سوال کرنے کے لیے مناسب تحفظ حاصل ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

