اسلام آباد (پ ر) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب سے ہم نے جمہوری سیاست، حقِ خودارادیت اور عوام کو حقِ حکمرانی میں شریک کرنے کی سیاست کا آغاز کیا ہے، ہم تب سے ہی اعتراضات کی زد میں ہیں اب ہمیں ان کی عادت ہو چکی ہے اور ہم ان کی پرواہ نہیں کرتے۔ ذاتی اور جماعتی طور پر ہمارا ضمیر مطمئن ہے اور ہم خود بھی مطمئن ہیں،دکھ اس بات کا ہے کہ موجودہ حالات میں جب تحریک انصاف مشکل وقت سے گزر رہی ہے، تو میرے لیے کھری کھری باتیں کرنا قدرے مشکل ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ ان کی اپنی مرضی ہے آپ گواہ رہیں، آپ کے کیمرہ مین گواہ ہیں اور خدا گواہ ہے کہ میں (محمود) اور علامہ ناصر کسی بھی قیمت پر عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ہم کسی بھی صورت میں ان بحرانوں میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں اور علامہ ناصر، ہم کسی قیمت پہ عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کسی صورت ان کرائسز میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نہ ہم لوگوں کو یہ کہیں گے کہ ڈنڈے اٹھاؤ، نہ ہم لوگوں کو کہیں گے کہ پتھر مارو، نہ ہم لوگوں سے کہیں گے کہ فلانا کرو۔ لیکن بالکل خاموش بیٹھے رہنا انتہائی، انتہائی قابلِ مذمت بات ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان نے تین فیصلے کیے۔ پہلا فیصلہ انہوں نے اپنی غیر حاضری میں تحریک انصاف کی چیئرمین شپ کا کیا۔ ایک ایسے آدمی کو تحریک انصاف کا چیئرمین بنانے کا اعلان کیا جو ان کا وکیل تھا۔ جس کی تحریک انصاف کے ساتھ کہ انہوں نے ساری تحریک انصاف میں اس آدمی کو چنا جو ان کا وکیل تھا، اور وہ واقعی اپنی ڈیوٹی بڑی اچھی طرح کر رہا ہے۔ دوسرے انہوں نے فیصلہ کیا کہ قائدِ اختلاف قومی اسمبلی میں محمود ہوگا، قائدِ اختلاف سینیٹ میں علامہ ناصر ہوں گے۔ یہ فیصلہ ہوا، آج اعتراضات ہو رہے ہیں۔ اسپیکر صاحب جس کو میں اکثر لتاڑتا رہتا ہوں، ذاتی دشمنی مجھ سے نہیں ہے، لیکن جو منصب اسپیکر شپ کا ہے وہ اس سے نہیں سنبھالا جاتا۔ میں مثال دیتا ہوں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج اعتراضات ہو رہے ہیں۔ اسپیکر صاحب، جن پر میں اکثر کڑی تنقید کرتا رہتا ہوں، ان سے میری کوئی ذاتی پرخاش نہیں ہے، لیکن اسپیکر کا منصب ان سے سنبھالا نہیں جا رہا۔ میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف اور عمران خان نے میری اور راجہ صاحب کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف نامزدگی کی بات اپنی پارٹی کو بھیج دی تھی۔ پارٹی اور اسپیکر کے درمیان محض سو فٹ کا فاصلہ تھا۔ پھر یہ فیصلہ پانچ ماہ تک کیوں رکا رہا؟ پانچ ماہ! آپ تو اسپیکر ہیں، آپ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا تھا۔ کل میرے ایک دوست نے کہا کہ محمود اس اسپیکر کو تسلیم نہیں کرتا جس نے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ مگر مجھے کب نوٹیفائی کیا گیا؟ پانچ ماہ بعد۔ آخر کیوں؟ کیا کوئی گڑبڑ تھی؟ کیا تحریک انصاف کے اندر کوئی مسئلہ تھا؟ میری اپنی معلومات یہ ہیں کہ اسپیکر صاحب خود بھی اس معاملے میں ملوث تھے کہ کسی طریقے سے اس شخص کو اس عہدے پر نہ رہنے دیا جائے۔ دوستی اپنی جگہ، لیکن اصولی بات یہ ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دوستی اپنی جگہ، بات یہ ہے کہ ہمارا بہت گہرا تعلق جمہوریت کی وجہ سے ہے۔ نواز شریف سیاست میں کیسے آئے، کس طرح انٹر ہوئے، یہ سب ہماری تاریخ ایسی ہی ہے۔ لیکن تاریخ بالکل یہ ثابت کرے گی کہ میاں محمد نواز شریف نے ان سب کے باوجود ایک جمہوری لائن لی، ‘ووٹ کو عزت دو’ کی طرف بڑھے اور پارلیمنٹ کو طاقتور بنانے کی طرف بڑھے۔ جب وہ اس طرف بڑھے تو ہم نے انہیں ان کنڈیشنل (غیر مشروط) سپورٹ دی۔ بے نظیر بی بی کے ساتھ بھی ہمارا یہی ہوتا تھا۔ پتا نہیں ہمارے سیاستدان کیوں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی پاکستان بننے سے شروع ہوئی ہے۔ اور غیر جمہوری قوتیں اپنے اس ارادے میں اتنی مضبوط ہیں کہ انہوں نے اپنی انا کے لیے، اور اس بات کے لیے کہ یہاں جمہوریت نہ ہو، یہاں آئین نہ ہو، انہوں نے پاکستان توڑنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”کیوں یہ نہیں سمجھنے کی کوشش کرتے؟ یہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی پاکستان بننے سے شروع ہوئی ہے۔ غیر جمہوری قوتیں اپنے اس ارادے میں اتنی مضبوط ہیں کہ انہوں نے اپنی انا کی خاطر، اور اس بات کے لیے کہ یہاں جمہوریت یا آئین نہ ہو، پاکستان کو توڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ دوسری جانب ہم پر الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔” میں بہت واضح بات کروں گا۔ تحریکِ انصاف میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک، تحریکِ انصاف کا کارکن ہے جو عمران خان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ دوسرا، ان کی مصلحت پسند قیادت ہے، جو محض اس خوف سے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے کہ خدانخواستہ کل عمران خان یہ نہ کہہ دے کہ محمود ایم این اے نہیں ہوگا، یا فلاں سینیٹر نہیں ہوگا۔ ان دو قوتوں نے تحریکِ انصاف میں مسائل پیدا کیے ہیں۔ لاکھوں لوگ عمران خان کے نظریات کی وجہ سے ان سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ میں یہاں موجود ظلم کے نظام کے خلاف آیا ہوں اور میں نے کرپشن کو نہیں چھوڑنا۔ میں کسی کا نام نہیں لیتا، لیکن جب قیادت مصلحت پسند لوگوں کے ہاتھ میں ہو، تو وہ ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ جب اعلانِ جنگ ہو جائے، جب آپ کی پارٹی اور آپ کے لشکر پر حملہ ہو، تو پھر جو لوگ رہبری کی صف میں ہوتے ہیں، انہیں سوچنا نہیں پڑتا، بلکہ انہیں میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ انہیں ہر حال میں میدان میں اترنا ہوتا ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں پڑھتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت گرمی میں تبوک کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ سخت گرمی تھی اور حالت انتہائی کٹھن تھی، لیکن چونکہ اعلانِ جنگ ہو چکا تھا، اس لیے ہر اچھے مسلمان پر یہ فرض تھا کہ وہ اس میں شامل ہو۔ کچھ لوگ لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ ان میں تین افراد شامل تھے: کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع۔ کعب بن مالک اس وقت اسلام لائے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال کی محنت کے بعد صرف چار افراد کو اپنا بنا چکے تھے: حضرت ابوبکر، حضرت خدیجہ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارث۔ اس کے بعد دو مرتبہ مدینہ کے لوگ آئے۔ پہلی مرتبہ چار آدمیوں نے اسلام قبول کیا، اور دوسری مرتبہ ستر افراد نے۔ ان ستر افراد میں کعب بن مالک بھی شامل تھے، جو انصار میں سے تھے۔ اسلام کی تمام جنگوں میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ باقی دو صحابہ غزوہ بدر کے مجاہدین تھے۔ لیکن تبوک کے موقع پر وہ نہ جانے کیوں پیچھے رہ گئے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو بہت سے لوگوں نے عذر پیش کیے، اور یہ تینوں بھی حاضر ہوئے۔ انہیں سب سے آخر میں معافی ملی۔ ان کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے زمین تنگ ہو گئی تھی۔ ہماری بیویوں اور بھائیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ہم سے کوئی رشتہ نہ رکھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم مسجدِ نبوی میں آتے اور بیٹھتے تھے، لیکن نہ کوئی ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا اور نہ کوئی ہم سے بات کرتا تھا۔ یہ سختی اس لیے تھی کہ جب اعلانِ جنگ ہو چکا تھا اور آپ اس جماعت کی قیادت کا حصہ تھے، تو اس وقت آپ کہاں تھے اور کس بل میں چھپے ہوئے تھے؟”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”کوئی مجھ سے بات کرتا تھا، یہ اس لیے کہ بھائی اعلانِ جنگ ہو چکا ہے۔ آپ اس پارٹی کی لیڈرشپ ہیں، کہاں ہیں آپ؟ کس بل میں چھپے ہوئے ہیں آپ؟
دیکھیں، سہیل آفریدی غریب کیا کہہ رہا تھا؟ یہ بڑے ظالم لوگ ہیں، ہماری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ میں کوئٹہ میں تھا۔ ایک مطالبہ تھا۔ سہیل آفریدی یہ کہہ رہا تھا کہ اچھا اعلان کیا ہے یا برا، ہم اعلان کر چکے ہیں۔ اب آپ کہتے ہیں کہ اس کو معطل کر دو یا ختم کر دو، تو ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے دیا جائے۔ دنیا کا قانون ہے، دو متحارب لشکر ہیں، دو متحارب پارٹیاں ہیں۔ ایک میں اتحادی شامل ہیں، ان کے لیڈر، ان کے دیگر لوگ اور ان کو اوپر سے سپورٹ کرنے والے سب صبح و شام سرگرم رہتے ہیں۔ دوسری طرف ایک پارٹی کا لیڈر جیل میں ہے، اس سے پوچھے بغیر کون یہ فیصلے کر سکتا ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک انصاف والوں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کو اس کارِ خیر میں لگا دیا تھا۔ مولانا صاحب، یہ آسان سی بات تھی۔ مولانا صاحب اور سرکار نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔ مولانا یا تحریک انصاف یہ مان چکے تھے کہ ٹھیک ہے، ہم عمران خان سے وہ نہیں کرتے، ہم ہفتے کے دن سسپنڈ کر دیتے ہیں۔ سوموار کو تحریک انصاف کے لیڈر کے ساتھ… مولانا غریب گئے وزیراعظم ہاؤس، تو وہاں پتا چلا کہ کیبنٹ میٹنگ ہے۔ شاید انہوں نے یہ خیال کیا ہو کہ کیبنٹ میٹنگ اس لیے ہے کہ اس معاہدے کو اپروو کیا جائے۔ پھر آ کے بتا دیا گیا کہ جی ہم تو فیصلہ کر چکے۔ بھئی پھر ہمیں کیوں جگ ہنسائی کے لیے بٹھائے رکھا؟ آپ چاہتے تھے کہ ختم ہو، وہ ختم ہو گیا۔ کنٹینر ہٹا دیے گئے۔ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہم نے عمران خان سے ملنا ہے، آپ نے وہ کر دیا۔ یہ تو ابھی تو باتیں آ رہی ہیں۔میں آج بھی یہ شرط رکھوں گا۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے اور آج بھی کہوں گا کہ ایک پارٹی کا لیڈر جیل میں ہے، اس سے ملاقات ہونی چاہیے۔ میں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں پاکستان، کون سا پاکستان؟ یہ ایک کثیر القومی ریاست ہے، یہ ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ اگر پاکستانی قوم نہیں بنی تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں۔ پاکستانی قوم آپ کو بنانی تھی۔ آپ نے ستر سال میں کیا پاکستانی قوم بنائی ہے؟ کہاں ہے پاکستانی قوم؟ یہ آپ کی ذمہ داری تھی جو آپ نے پوری نہیں کی۔ آپ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی بھی صورت اس ملک میں جمہوریت کو چلنے نہیں دینا۔ اس مقصد کے لیے آپ یہاں تک چلے گئے کہ آپ نے ملک کو توڑ دیا۔ اب اس بات پر بھی پابندی ہے کہ کوئی یہ بھی نہ پوچھے کہ ملک کیوں اور کس کی وجہ سے ٹوٹا؟ ملک ٹوٹا ہے، کوئی گدھا یا گائے نہیں مری۔ اس کے بعد اگر آپ کو یاد ہو، جب یہ خطرہ محسوس ہوا کہ لندن میں چھتیس پارٹیاں جمع ہو گئی ہیں اور ایک جمہوری اتحاد بن رہا ہے، تو ایک پارٹی کو این آر او کے نام پر الگ کر دیا گیا۔ چونکہ جمہوری لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روکنا تھا، اس لیے نو ہزار مجرمانہ مقدمات واپس لیے گئے۔ جب ان کی باری آتی ہے تو کچھ تو سمجھنے کی کوشش کریں، کچھ تو خدا کا خوف کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”آپ کو یاد ہو، ایسا خطرہ محسوس ہوا کہ لندن میں 36 پارٹیاں جمع ہو گئی ہیں اور ایک جمہوری اکٹھ بن رہا ہے۔ اس میں ایک پارٹی، نام نہیں لیتا، اس کو سائیڈ کر دیا گیا این آر او کے نام سے۔ چونکہ جمہوری لوگوں کو اکٹھے ہونے سے روکنا تھا، 9 ہزار کرمنل کیسز وڈرا ہوئے۔ خود تو سمجھنے کی کوشش کریں شہباز بھائی، کچھ تو خدا کا خوف کریں! جمہوری پارٹیاں جب ملتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں ان کا راستہ روکتی ہیں، تو 9 ہزار کرمنل کیسز؛ ڈاکے کے، قتل کے، فلاں کے، فلاں کے وڈرا ہو جاتے ہیں کہ جمہوری نظام نہ بنے۔ اور یہاں جمہوری نظام بننے کے لیے صرف ایک شرط ہے کہ فلاں آدمی سے ملاقات کی اجازت ہو۔ اس پر آپ قدغن لگاتے ہیں کیونکہ لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ کیسے چلے گا یہ؟”آپ مہربانی کریں، کم از کم یہ بتائیں کہ موجودہ حکومت نے اس پارٹی کے ساتھ کیا نہیں کیا؟ وہ الیکشن جیتے ہوئے تھے، آپ نے ان سے چھین لیا۔ عدالتوں کو ملا کر اور مختلف حربے استعمال کر کے آپ نے ان کا انتخابی نشان تک چھین لیا اور سارے پاکستان پر قبضہ کر لیا۔ جو آخری مورچہ تھا، آپ اس پر بھی حملہ آور ہوئے۔ کیا ان حالات میں بھی آپ انہیں تھوڑی سی رعایت نہیں دینا چاہتے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ لوگ سڑکوں پر نکل کر آپ کے ساتھ فیصلہ کریں اور مقابلہ کریں؟ وہ ایک انتہائی خطرناک موقع ہوگا۔ مصلحت پسندی اور کیا ہوتی ہے؟ میں معافی چاہتا ہوں، میں کسی کا نام نہیں لیتا، لیکن دو سال پہلے، حزبِ اختلاف کی 25 سے 30 ووٹوں کی اکثریت تھی، پھر بھی ہم ہار گئے۔ کسی نے بھی اپنی پارٹی سے ان کالی بھیڑوں کو نہیں نکالا۔ سوائے ہمارے، کسی پارٹی نے اپنی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نہیں نکالا۔ اور اب حالیہ الیکشن میں بھی، تحریکِ انصاف یا بعض دیگر پارٹیوں کے کچھ ووٹ بکے ہیں۔”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی پارٹی نے اپنی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نہیں نکالا سوائے ہمارے۔ ابھی اس الیکشن میں، تحریک انصاف کے یا بعض پارٹیوں کے ووٹ چھبیسویں ترمیم میں بکے ہیں۔ جس آدمی نے آپ کو پیسے دیے ہیں، وہ تو ایک دن ضرور بولے گا۔ ان کے خلاف پارٹیاں حرکت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں ابھی تک کسی کو نوٹس نہیں دیا گیا؟ کیوں ان کو پارٹی سے نہیں نکالا گیا؟ لوگ محنت کریں گے اور آپ ٹھاٹ سے کچھ کروڑ روپے لے کر ووٹ اپنی ہی پارٹی کے خلاف دیں گے اور پھر ڈانگیں بھی ماریں گے۔ میں ان سب کے نام جانتا ہوں، لیکن میں ایک حیا دار آدمی ہوں۔ میں کسی کو یہاں تک نہیں لے جانا چاہتا، اس لیے مجھے نہ چھیڑو، نہ چھیڑ ملنگاں نوں۔ میں سب کو جانتا ہوں اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”ابھی ہمارے اس الیکشن میں تحریک انصاف کے، یا بعض پارٹیوں کے، بعض ووٹ بکے ہیں چھبیسویں ترمیم میں۔ مجھے نہیں پتہ، لیکن یہ تو ہے کہ جس آدمی نے آپ کو پیسے دیے ہیں، وہ تو ایک دن بولے گا۔ ان کے خلاف کیوں پارٹی حرکت نہیں کرتی؟ کیوں ابھی تک کسی کو نوٹس نہیں دیا گیا؟ کیوں ان کو پارٹی سے نہیں نکالا گیا؟ لوگ محنت کریں گے، فلانا کریں گے، اور آپ ٹھاٹھ سے کچھ کروڑ روپے لے کر ووٹ اپنی پارٹی کے خلاف دیں گے اور پھر ڈینگیں بھی ماریں گے۔ میں ان سب کے نام جانتا ہوں۔ میں حیا دار آدمی ہوں۔ بالکل، میں حیا دار آدمی ہوں، میں کسی کو یہاں تک نہیں لے جانا چاہتا کہ پھر… دیکھو مجھے نہ چھیڑو۔ نہ چھیڑ ملنگاں نوں۔ مجھے نہ چھیڑو، میں سب کو جانتا ہوں۔” ‘میرا مقصد یہ ہے کہ اس معاملے پر گفتگو ہوگی۔ رانا ثناء اللہ نے میرا نام لیا ہے، وہ ایک شریف انسان ہیں اور میں ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہوں گا۔ وہ اپنی جگہ مجبور ہیں اور انہیں اپنی وفاداری نبھانی ہے۔ جب ان کی پارٹی کوئی فیصلہ کرتی ہے، خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، تو اس کا دفاع کرنے والے واحد شخص رانا ثناء اللہ ہی ہوتے ہیں۔ وہ جو بھی کہیں، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ رانا ثناء اللہ میرے کوئی قریبی رشتہ دار یا میری پارٹی کے رکن نہیں ہیں، لیکن میں نے ان کے گھر کو اپنا گھر کہا ہے کیونکہ ہم شریف لوگ ہیں، میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب آخری خط میرے پاس آیا تو میں اس پر اڑ نہیں گیا۔ میں نے جب وزیراعظم کو خط لکھا تو ان کا جواب آیا، جس کے جواب میں میں نے لکھا کہ ‘ایک بہترین الفاظ پر مبنی خط کا شکریہ’ اور یہ کہ ہم اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کی جانب سے جو جواب موصول ہوا وہ میرے پاس محفوظ ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ آپ کے اور میرے دفتر کے لوگ بیٹھ کر اس پر بات کریں گے۔ پھر اچانک ایک اور خط آ گیا کہ وزیراعظم ہاؤس۔۔۔ یہ دونوں خطوط میرے پاس موجود ہیں۔ میرے لیے وزیراعظم ہاؤس کوئی مسئلہ نہیں ہے۔” ‘میں نے ایک اور خط لکھا، میں نے کہا کم از کم پہلی میٹنگ، چونکہ یہ آئینی معاملہ ہے، کم از کم پہلی میٹنگ کانسٹیٹیوشن روم میں ہو۔ باقی جہاں بھی ہو، درست ہے۔ بسم اللہ، شہباز کل آئیں، اپوزیشن چیمبر میں میرے ساتھ کافی پیئیں، میں ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ آئیں، اپوزیشن چیمبر آ جائیں، ہم ایک ساتھ کافی پیئیں گے۔ کافی کے پیسے وہ دے دیں، میں نہیں دوں گا۔ وہ دے دیں، پھر یہاں سے جہاں چلتے ہیں، چلتے ہیں، بسم اللہ۔” شہباز شریف کی مرضی ہے، یا وہ آئیں۔ میں تو پٹھان آدمی ہوں، جرگہ مار قسم کا۔ یا وہ اپوزیشن چیمبر آئیں، مجھے کہیں کہ میں دعوت دیتا ہوں فلاں جگہ چلو، تو میں چلا جاؤں گا۔ یا پھر میں ان کے پاس جاتا ہوں، ان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ کانسٹیٹیوشن ہاؤس آ جائیں۔ میں ان کے گھر بھی جاؤں گا اور انہیں بلاؤں گا، لیکن مذاکرات کانسٹیٹیوشن ہاؤس میں ہی ہوں گے۔ یا وہ میرے پاس آئیں، تو ہم ادھر چلتے ہیں۔ ہم بالکل تیار ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ مجھے دکھ ہوتا ہے، شہباز شریف کو ہمت کرنی پڑے گی کیونکہ ان کے گرد بھی بلائیں بیٹھی ہوئی ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”بات یہ ہے کہ مجھے دکھ ہوتا ہے، شہباز شریف کو ہمت سے کام لینا ہوگا۔ ان کے گرد بھی بلائیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہ شہباز شریف کی ذمہ داری بنتی ہے۔ میں سو دفعہ تسلیم نہ کروں، مگر وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں۔ میں سو دفعہ نہ مانوں، لیکن عوام انہیں مانتی ہے۔ جب وہ اس منصب پر فائز ہیں تو انہیں اپنا ظرف بڑا کرنا چاہیے۔ آپ ان بلاؤں کو… نہیں، یہ آپ نہیں کر سکتے۔ اگر خدانخواستہ آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کریں۔ ”اگر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے ہیں، تو میں غیر مشروط طور پر تیار ہوں۔ ان کی ٹیم معاملات میں گڑبڑ کر رہی ہے۔ رانا صاحب صورتحال کو سمجھتے ہیں لیکن وہ مجبور ہیں۔ وہ ایک تھکے ہارے شخص ہیں جنہیں محض دفاع کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیے، جب مولانا فضل الرحمان اور تحریک انصاف کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، اور پھر قیادت یا کسی اور نے اسے ماننے سے انکار کر دیا، تو رانا صاحب کو مجبوراََ اس کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ غلط ہوا ہے۔ ہر ذی شعور اور منطقی شخص جانتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے۔ آپ لوگ عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آپ کو محض یہ فیصلہ کرنا تھا کہ معاملات کو ختم کیا جائے، آپ تحریک انصاف سے ملتے اور معاملہ حل ہو جاتا، لیکن آپ نے گورنر راج نافذ کر دیا۔ اور ابھی تک اسی پر بضد ہیں۔ خدارا سوچیے، یہ کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں۔ آپ پانی کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اور صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ تو جان بوجھ کر مصیبت کو دعوت دینے یعنی ‘آ بیل مجھے مار’ والی بات ہے۔” وہ دیکھیں خدا کے لیے، یہ آسان سی باتیں نہیں ہیں۔ آپ نے پانیوں پر قبضہ کرنا ہے، آپ نے معدنیات پر قبضہ کرنا ہے، آپ نے صوبوں کو توڑنا ہے۔ یہ تو مفت میں ‘آ بیل مجھے مار’ والی بات ہے۔ ہم اس دن سے ڈرتے ہیں، پاکستان اندر سے کمزور ہے۔ پاکستان کی ساری بربادیاں اندر کی طرف سے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے۔ آئیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں، ہماری تجویز یہ ہے۔ میں نے بار بار کہے ہیں یہ گھسے پٹے فقرے۔ ”میں نے بار بار کہا ہے، اور وہی گھسے پٹے فقرے استعمال کرتا ہوں کہ بھائی خدا کو مانو۔ سندھی سے کہو کہ اللہ پاک نے جو وسائل آپ کو عطا کیے ہیں، ان پر پہلا حق آپ کے بچوں کا ہے۔ یہی بات بلوچ سے کہہ دیں، پشتون سے کہہ دیں، پنجابی سے کہہ دیں۔ یہ کیسی حالت ہے؟ آپ ایک رات کے کھانے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ ولایتی لسی جو ہمارے اسلام آباد میں پی جاتی ہے، اس کی ایک ایک بوتل دو دو لاکھ روپے کی ہے۔ ایک طرف ہماری یہ بڑی گاڑیاں ہیں جن کی ایک ٹنکی چھتیس، چالیس ہزار روپے میں بھرتی ہے، اور دوسری طرف غریب آدمی کو مہینے کا بیس ہزار روپے بھی نہیں ملتا۔ کون چلائے گا اس ملک کو؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”میں اس بات پر کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا، لیکن جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے کوئی مراعات نہیں لیں۔ میرے پاس صرف ایک چھوٹی سی گاڑی ہے، اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں لیا۔ نہ میں نے سرکاری گھر لیا ہے، میں اپنے ہی گھر میں رہتا ہوں۔ منسٹرز انکلیو میں اپوزیشن لیڈر کا گھر ہوگا، لیکن میں نے نہ اس کا کلیم کیا ہے اور نہ ہی مجھے اس کا کوئی شوق ہے۔ میں نے کوئی بھی مراعات نہیں لیں۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں، میں نے وہاں کی حکومت سے کوئی پروٹوکول نہیں مانگا۔ نہ کوئی پولیس کی گاڑی میرے آگے پیچھے ہوتی ہے، میں اکیلے اور خاموشی سے کوئٹہ ایئرپورٹ سے سیدھا اپنے گھر جاتا ہوں۔ مراعات کے حوالے سے جو دعوے کیے گئے یا جو خطوط لکھے گئے، وہ سب سراسر جھوٹ ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ میں کونسی مراعات وصول کر رہا ہوں؟ کوئی مجھے لکھ کر بتا دے۔ کیا میری مراعات بس یہی ہیں کہ میں دفتر جاتا ہوں، جس کا میں نے کہا بھی نہیں ہے، اور وہاں کوئی چائے بسکٹ آ جاتے ہیں، اور ایک یہ چھوٹی سی گاڑی میرے پاس ہے۔ بس مجھے بتا دیں کہ کونسی مراعات ہیں؟ اگر یہ چھوٹی گاڑی بھی مراعات میں شامل ہے، تو آپ یہ بھی لے لیں۔”میں سپیکر کے دفتر نہیں جاتا، اپنی گاڑی میں جاتا ہوں اور پیٹرول بھی خود ڈلواتا ہوں۔ اسلام آباد کلب بھی اسی چھوٹی گاڑی میں جاتا ہوں۔ میں نے اس دن کہا بھی تھا کہ میرا ساتھی ریاض سینیٹ کی گاڑی میں روٹی لانے گیا، لیکن آدھا گھنٹہ غائب رہا۔ پتہ چلا تو کراچی کمپنی میں دو مسٹنڈے پولیس والے، دو خواتین سمیت اسے پکڑ کر لے گئے۔ اسے نیچے اتارا، پھر بٹھایا اور ایک نے دوسرے سے کہا، ”اس لڑکی کے ساتھ اس کی ویڈیو بناؤ، کپڑے نکالو۔” یہ سب سرکاری گاڑی میں ہوا۔ انہوں نے مجھ سے 16 ہزار روپے لیے۔ میں ایف آئی آر نہیں کٹواؤں گا۔ یہ سب میں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مجبوراََ کہا۔ شہباز شریف میرا 15 ہزار روپے کا مقروض ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب سے ہمارا خاندان سیاست میں آیا ہے، ہم نے اس بات کا احسان نہ کسی پر جتایا ہے اور نہ ہی کبھی جتائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک ہو۔ یہاں منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو اور ایک آزاد الیکشن کمیشن ہو۔ افواجِ پاکستان سمیت ہر ادارہ، آئین کے متعین کردہ دائرہ کار میں رہے۔ میں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ہماری افواج یہ بات تسلیم کر لیں، تو میں —جس نے کبھی اپنے والد، والدہ یا بڑے بھائی کا ہاتھ نہیں چوما—افواجِ پاکستان کے اس سربراہ کا ہاتھ چومنے کے لیے تیار ہوں جو اپنے آئینی دائرے تک محدود رہے۔ آئیے پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنائیں۔ اس طرح نظام نہیں چل سکتا۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس طرح نہیں چل سکتا۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ایران کے ساتھ جو تماشے ہو رہے ہیں، ان میں ایران آپ سے بار بار اور بین السطور کہہ رہا ہے کہ آپ ہمیں اعتماد میں نہیں لیتے۔ ایران بین السطور آپ کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ میرے بدترین مخالف کو اڈے نہ دیں، ورنہ ہمارے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ کل سے تو یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ ایران کا کہنا ہے کہ شاید پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس لیے نہیں کروا سکتا کیونکہ پاکستان کے پاس طاقت نہیں ہے۔ ہماری پشتو میں بھی ایک کہاوت ہے کہ جس شخص کی کلائی (مڑوند) میں طاقت نہ ہو، وہ دو متحارب گروہوں کے درمیان صلح نہیں کروا سکتا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کام روس اور چین سنبھالیں گے، تو یہ ایک اچھی بات ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ترکی آج ہماری اخباروں میں آیا ہے ان کی طرف سے کہ ترکیہ افواج نہیں بھیجے گا، اسلحہ دے گا، فلانا کرے گا۔ ہم کیا کریں گے ہمیں کوئی نہیں بتا رہا۔ آپ ہمارے ملک کو ایک اس کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو، اپنی ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی، سپیکر کہتا ہے میں پارٹیزن نہیں ہوں۔ پرسوں میں نے تقریر کی، میں نے اس میں قومی اسمبلی کے دس آدمیوں کے نام لیے، وہ بھی اس نے سنسر کیے۔ اچھا! میں نے اس میں یہ کہا تھا، میں نے کہا خدا کو مانو فرانس میں لاکھوں لوگ نکل آئے ہیں انہوں نے ایفل ٹاور کو آگ لگائی ہے، ایک گولی نہیں چلی۔ یہ بھی سنسر کیا۔ اس میں سنسر کرنے کی کیا، تو پھر تم پارٹیزن کیا ہو، تم ہوتے کون ہو، وائے؟ ہمارا کنڈکٹ، کنڈکٹ تو ہمیں وہ بک بتاتا ہے جو ہمارے پاس ہے رولز۔ اس کے اندر رہتے ہوئے آپ ہمارے وہ حق چھین رہے ہیں جو ہم یہاں پاکستان کی ہسٹری کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ یہ اتھارٹی آپ کو کس نے دی؟ کون، یہ تو سپیکر کا رول نہیں ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں جب تک وہ سپیکر کے صحیح رول پہ نہیں آئے گا، میں اس کو سپیکر نہیں مانتا۔ البتہ کوشش کروں گا بار بار اسے وہ کرنے کی بھی مجھے برا لگتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ جانیں ان کا کام جانے۔ لیکن وہ آپ کو بولنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر وہ میرا حق نہیں دے گا تو میں آسمان سر پر اٹھا لوں گا، یہ میرا حق ہے اور یہ کوئی احسان نہیں ہے۔ لوگ یہاں منتخب ہو کر آئے ہیں؛ آپ یہاں سپیکر ہیں لیکن آپ سے بڑے لوگ باہر موجود ہیں۔ میں یہاں کا ممبر ہوں اور بہت سے دیگر اراکین بھی موجود ہیں۔ تاہم اس اسمبلی میں، چاہے وہ پاکستان کا طاقتور ترین شخص ہی کیوں نہ ہو، وہ اس چیمبر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا کوئی ارب پتی، کھرب پتی، کوئی مجرم یا کوئی بہت بڑا عالم اور مبلغ بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس چیمبر میں صرف وہ شخص داخل ہو سکتا ہے جس پر عوام نے اعتماد کیا ہو، لہٰذا اس عوامی اعتماد کو ٹھیس مت پہنچائیں۔ ہمیں اپنے عوام پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ”پہلی بات تو یہ ہے کہ ایمانداری اور پوری دیانت داری سے ہمیں یہ حکومت بتائے کہ ان کی عمران خان کے متعلق کیا رائے ہے؟ جو ہم سن رہے ہیں، وہ تو خطرناک بات ہے کہ عمران خان کو فارغ کر دو۔ اگر یہ ہے، تو ہم اخیر حد تک اس سوچ کی مخالفت کریں گے، پھر جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے۔ دوسری بات، یہ کوشش کی جائے کہ عمران خان کو مائنس کیا جائے، تو اس کی بھی ہم سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں۔ ہر الیکشن میں چاہے اس کا چاچا آئے، چاہے اس کی ممانی آئے، چاہے اس کی بیوی آئے، یا چاہے اس کا بھتیجا آئے، ہم اس کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ مائنس عمران خان نہیں ہوگا۔ عمران خان کروڑوں انسانوں کا لیڈر ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو مائنس کیا جائے، ہم اس کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہر ایکشن میں چاہے ان کا چاچا آئے، مامی آئے یا بیوی آئے، ہم اس عمل کو سپورٹ نہیں کرتے۔ مائنس عمران خان نہیں ہوگا۔ عمران خان کروڑوں انسانوں کا لیڈر ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ میرے الفاظ سخت ہوتے ہیں اور لوگ برا مانتے ہیں، میں ایک پٹھان آدمی ہوں کیا کہوں، نرم الفاظ یہی ہیں کہ دیکھیں عمران خان اس وقت جیل میں ہے۔ غیر جمہوری قوتوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ انہوں نے جیلوں میں لوگوں کو تنگ کیا اور ان سے معاہدے لیے۔ نواز شریف کو آپ نے اٹک جیل میں بند کیا، وہاں سے نکال کر جہاز میں بٹھایا، ہتھکڑیاں لگائیں، انہیں مجبور کیا اور دس سال کے لیے باہر بھیج دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی کبھی ادھر تو کبھی ادھر گھوم رہی ہوتی تھیں۔ اب یہ خود بھی ایک مجرمانہ فعل ہے کہ آپ ایک قیدی کو مجبور کریں کہ وہ انگوٹھا لگائے۔ کیوں؟ آخر کس لیے؟ میں آپ کے توسط سے یہ کہتا ہوں کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو بھی بات کی ہے، وہ ہمیں بتائیں۔”میں آپ کے تھرو یہ کہتا ہوں، آپ نے عمران خان کے ساتھ جو بات کی ہے، ہمیں، ٹرسٹ اَس، ٹرسٹ می ایز اے نیگوشی ایٹر، ٹرسٹ می ایز اے مین نامینیٹڈ بائے عمران خان۔ آپ نے ان سے کیا بات کی؟ آپ کی بات کہاں الجھی؟ اس الجھاؤ کو ہم۔۔۔ بالکل، بالکل برملا، بالکل میرا یقین ہے، اور شاید یہ اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی تو وہ آدمی بتا دے گا۔ بتا دے، پرواہ نہیں، غلطیاں ہوتی ہیں لوگوں سے۔ مزید نہ بڑھیں۔ جو الجھاؤ آیا ہے، اس الجھاؤ کو آپ نہیں سلجھا سکتے۔ اس کو سچ اور صرف سچ۔۔۔ سچ آپ کریں گے، سچ ہم۔ ہم آپ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ بامعنی مذاکرات ہوں، تو ہم پر اعتماد کریں۔ میں (محمود) ہوں، علامہ ناصر عباس ہیں۔ ہم آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان سے ہماری بات ہوگی۔ ہم نہ پریس کو بتائیں گے اور جو غلطیاں آپ سے ہوئی ہیں اس کا بھی ذکر نہیں کریں گے، لیکن آپ کے سامنے ہم کہیں گے۔ اور یہ بھی وعدہ ہے کہ اگر ہمیں پتہ چلا، ہماری عقل اور ہماری منطق یہ کہے کہ عمران غیر منطقی بات کر رہا ہے، تو ہم آپ کے سامنے بھی، اکیلے بھی اور لوگوں کے سامنے بھی عمران سے کہیں گے کہ یہ غلط کر رہے ہو۔ اور اگر وہ صحیح بات کر رہا ہے، پھر تو آپ کو کون کہے گا؟ ہم کہیں گے۔ ہم سارے پاکستان کو بتا دیں گے۔ اگر آپ نے اس الجھاؤ کو سلجھانا ہے، تو بسم اللہ، اعتماد کریں۔ گزشتہ روز اخبارات میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ عمران خان نے نتھیا گلی جانے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر یہی مذاکرات ہیں، تو پھر دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ آئیں، بسم اللہ کریں اور اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے مل کر سلجھائیں۔ ہم عمران خان کو راضی کر لیں گے۔ اگر کسی کو کوئی خطرہ محسوس ہو رہا ہے، تو یہ سمجھیں کہ اس وقت سارا ملک ہی مشکلات میں پھنس چکا ہے۔ اس ملک کا ہم سب پر حق ہے۔ کسی کو بھی اپنی ضد پر نہیں اڑنا چاہیے کیونکہ ضد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم مشرقی پاکستان میں اپنی ضد پر اڑ گئے، اس کا کیا فائدہ ہوا؟ ہم بلوچ علاقوں اور دیگر جگہوں پر بھی اڑ گئے۔ اب آپ نئے نئے تجربات کر رہے ہیں۔ اس ملک کو مزید تجربوں کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک کو بچانا ہوگا، یا پھر آپ یہ تسلیم کر لیں کہ ہمارا موجودہ سماجی معاہدہ (سوشل کانٹریکٹ) ناکام ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں ایک نیا سوشل کانٹریکٹ تشکیل دینا پڑے گا جو کہ انتہائی مشکل کام ہوگا۔ جب تک نیا کانٹریکٹ نہیں ہوگا، معاملات حل نہیں ہوں گے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں، یوگوسلاویہ ہم سے کہیں زیادہ خوشحال ملک تھا۔” قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یوگوسلاویہ ہم سے زیادہ خوشحال ملک تھا اور مارشل ٹیٹو کی شخصیت کے باعث متحد تھا، لیکن غلطیوں کے نتیجے میں خون کے چھینٹے اسلام آباد تک پہنچے۔ ہم خوشحالی اور تعلیم میں ان سے بہت پیچھے ہیں، جبکہ بنیادی طور پر انسان حقِ حکمرانی میں اپنا حصہ چاہتا ہے۔ حکمرانی میں حصے کا مطلب یہ ہے کہ پشتون، بلوچ، پنجابی اور سندھی کو اپنے وطن پر بادشاہی کرنے دی جائے؛ آپ کی طاقت کو کسی نے نہیں روکا، یہ آپ کے پاس ہی ہے۔تحریکِ انصاف کو تو میں نے دیکھ لیا ہے؛ جب ان کے لیڈر نے انہیں کہہ دیا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کون ہوگا، تو اس میں پانچ مہینے کیوں لگے؟ ایسا تو نہیں تھا کہ تحریکِ انصاف میں کوئی باغی گروپ موجود تھا۔ یہ تو پھر تحریکِ انصاف والوں اور سپیکر صاحب کو بتانا پڑے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔ میری معلومات میں ایسا کچھ نہیں ہے، کسی نے یوں ہی کہہ دیا ہوگا، لیکن جہاں تک میری بات ہے تو میں کسی سے نہیں ملا۔ اب میری کوشش ہے کہ یا تو شہباز شریف اپوزیشن دفتر آئیں اور کہیں کہ محمود چلو مذاکرات کرتے ہیں، چائے کافی پیتے ہیں، یا پھر میں خود ان کے پاس پرائم منسٹر ہاؤس چلا جاؤں۔میں اس بارے میں بڑا منکسر المزاج آدمی ہوں۔ میں لوگوں کے گھر جاتا ہوں اور ہر معمولی چیز کا حساب رکھتا ہوں۔ کسی کے گھر جاتا ہوں تو یہ بھی اپنے ذہن میں رکھتا ہوں کہ اس گھر میں میں نے دو بسکٹ اور ایک سموسہ کھایا ہے۔ میں وہ حساب رکھتا ہوں، کیونکہ وہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ میں زیادہ لمبے چوڑے تکلفات نہیں کرتا اور بغیر پوچھے بھی چلا جاتا ہوں۔ لیکن جب مجھے یہ اندازہ ہو جائے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات آ گئی ہے کہ ہم فقیر ہیں، تو پھر میں بادشاہوں کے گھروں میں بھی نہیں جاتا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہر انسان میں کوئی ایک ایسی بات ضرور ہوتی ہے کہ اگر وہاں درست ضرب لگائی جائے تو جذبات ابھر آتے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، لیکن شاید کسی نے کہہ دیا ہوگا کہ یہ سب ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس اقدام کی اب کیا منطق پیش کی جائے گی کہ عدالتوں کے ذریعے ایک سیاسی جماعت کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے اور اس کا انتخابی نشان چھین لیا جائے؟ پھر معمولی باتوں پر پچاس پچاس اور چالیس چالیس سال کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ ایک قاتل کے لیے سزا بیس سال مقرر ہے۔ یہ آخر کیا ہو رہا ہے؟ وہ بڑے شریف لوگ تھے، جن کی اکثریت ستانوے، اٹھانوے تھی، اسے آپ نے کم کر کے ستر پر پہنچا دیا۔ اب بس یہی باقی رہ گیا ہے کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے اور الیکشن کمیشن کہہ دے کہ محمود نااہل ہے۔ اس کام پر میرے دوست لگے ہوئے ہیں۔ میں خود پیشکش کرتا ہوں، بسم اللہ ایاز بھائی، ریفرنس بھیج دیجیے۔ مجھے بھی نااہل کر دیں اور راجہ ناصر بھائی کو بھی۔ وہ بالکل اسی کام پر لگے ہوئے ہیں کہ ہمیں نااہل کر دیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کیوں نااہل کیا جا رہا ہے۔ ہم جمہوریت کی بقا کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ”وہ اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، بے شک ہمیں نااہل کر دیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم کیوں نااہل ہو رہے ہیں۔ ہم جمہوریت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ یہاں اصول یہ بن گیا ہے کہ حق کی بات نہیں کرنی، حق کی بات کسی نے نہیں کرنی۔ جب حق کی بات ہی نہ ہو تو پھر ایسی زندگی گزارنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کیسا پروپیگنڈا ہے اور یہ کہاں کا اسلام ہے؟ اسلام تو حکم دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے، اسلام حکم دیتا ہے کہ مظلوم کا ساتھ دینا ہے، اور اسلام حکم دیتا ہے کہ حق کی جنگ میں کبھی پیچھے نہیں ہٹنا۔ جب یہ اقدار ہی نہ ہوں تو میرا اور آپ کا کیا رشتہ؟ بسم اللہ، ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے۔ البتہ میں مشکور ہوں، مجھ جیسے معمولی شخص کے لیے نواز شریف نے۔۔۔ وہ ابھی حیات ہیں۔۔۔ مجھے اپنی آخری بات مکمل کرنے دیں۔”نواز شریف (جو کہ حیات ہیں) نے آخری بار مجھ سے کہا کہ ‘محمود! میں نے انکار نہیں سننا۔’ میں نے پوچھا، ‘خیر، کیا بات ہے؟’ انہوں نے کہا، ‘آپ نے میرے ساتھ حکومت میں شامل ہونا ہے۔’ میں نے جواب دیا، ‘میں اس مٹی کا نہیں بنا، میں یہ نہیں کر سکتا۔’ یہ 2013 کے انتخابات کے بعد کی بات ہے۔ میں نے کہا، ‘میاں صاحب! غیر جمہوری راستے پر نہیں، البتہ جمہوری راستے پر میں آپ کی حمایت کروں گا۔ آج میں کیا چاہتا ہوں؟ اگر واقعی لوگوں کو پاکستان عزیز ہے، تو اب بھی بسم اللہ کریں۔ شہباز صاحب! آپ بسم اللہ کریں۔ اس بات کا اعلان کریں کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، آئین بالادست ہوگا، تمام تر پالیسیاں پارلیمنٹ میں بنیں گی، اور ہر ادارہ اس کے ماتحت ہوگا۔ آپ یہ کر دیں، اگر آپ کو میرے چہرے سے کوئی مسئلہ یا اعتراض ہے، تو میں رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے کر چلا جاؤں گا۔ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس (APC)ہوگی اور اسی مہینے ہوگی۔ ” ہم ایک ساتھ آ رہے ہیں اور ہماری پوری کوشش ہوگی۔ ہماری پی ٹی آئی سے بھی یہ گزارش تھی کہ وہ اپنے ایجنڈے کو وسعت دیں؛ اس میں غربت، کسانوں اور صحافیوں کے مسائل کو بھی شامل کریں۔ قرآنِ کریم کی ایک آیت کے مطابق ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ بے شک ہم سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے ہم… انشائاللہ ہم اسے مضبوطی سے پکڑیں گے۔ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، لیکن ہم نے اب یہ کام لازمی کرنا ہے۔”نہ بھی ہو، جہاں وہ مشورہ کرتے ہیں، ان کو بھی سمجھائیں۔ یہ نہیں چلے گا۔ یہ کہاں کی شرافت ہے؟ بار بار یہ فقرے میں دہراتا ہوں، دکھ بھی ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت جب سے آئی ہے، گولیوں سے جو ان کی وجہ سے مرے ہیں جلوسوں میں، جمہوری حقوق کے استعمال میں، بنیادی انسانی حقوق کے استعمال میں، یہ سینکڑوں میں ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو کیوں گولیاں مارتے ہیں؟ کیوں؟ کشمیر، کشمیری غریب آپ کے دوست، آپ کے ساتھی، ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ پتہ نہیں کیا، 140 سے اوپر جانیں گئیں۔ کیوں؟ مطلب اسے 25 فیصد کر لیں۔ ایک آدمی کی جان کی بھی کوئی قیمت ہے؟ قرآن کریم تو ایک انسان کی موت کو تمام انسانیت کی موت کہتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو گولی مارو گے؟ لوگ تو خلیفہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ یار یہ کیا ہو رہا ہے؟ اب جب آپ یہ تماشے کریں گے، آپ لوگوں کو رونے کا بھی حق نہیں دیں گے، روڈوں پر جلسے کا بھی حق نہیں دیں گے، تو پھر تو ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے۔ یا سرنڈر، یا پھر وہی کہ تم بھی پتھر مارو میں بھی پتھر ماروں۔ اس انارکی کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ شہباز بھائی خدا کو مانو۔ لوگ نکلیں گے، میں آپ کو بتا دیتا ہوں، لوگ نکلیں گے۔سندھ،بلوچستان، پشتونخوا سب میں لوگ نکلیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جسطرح 582Bایک دن میں ختم ہوا تھا، 28ویں ترمیم اس طرح ہونی چاہیے کہ موجودہ آئین کو جو جو پیوند لگے ہیں ان سب کو ختم ریورس کردے، ہم نے اپنے ووٹوں سے پارلیمنٹ کے ہاتھ باندھ لیئے، عدالت کے پرکاٹ لیئے، پیکا ایکٹ لگادیا اگر 28ویں آئینی ترمیم اس طرح ہوگی تو پاکستان کے کرورڑوں لوگ جشن منائیں گے۔ لیکن جو 28ویں ترمیم حکومت لانا چاہتی ہے میں پی ٹی آئی کے ذمہ دار ترین لوگوں کو جانتا ہوں اور میں نے یہ سُنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کی آزادی نہیں بلکہ پاکستان کی بربادی اور خانہ جنگی کاراستہ ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کی رہائی کا فیصلہ جلدی بھی ہوسکتا ہے اور یہ حکومت کرے، جس دن سیاسی لوگوں کی عمران خان سے ملاقات ہوئی یہ مثبت مذاکرات کی ابتد اء ہوگی اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے کو اُس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک منطقی نتیجے پر نہ پہنچے۔ کچھ وقت پہلے ایسے حالات تھے کہ اُس آدمی کو کون سنبھالیں گا ہم تو بسم اللہ کرلیں گے، میں نے کہا کہ اُس کو خدا سنبھالیں گا ہم سنبھالیں گے۔لیکن اب جس انداز میں اپنے ملک کے وسائل کو لوٹا جارہا ہے اس پر دُکھ ہوتا ہے۔

