اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر جان محمد بلیدی نے سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں بلوچستان و ملک بھر میں نیوٹیک (NAVTTC) کے ساتھ منسلک رجسٹر سرکاری و نجی تکینیکی اداروں کی تعداد اور ان میں رجسٹر طلبا کی تعداد اور یہ کہ ان طلبا کو کتنے وظائف دیئے جارہے ہیں ان کی تفصیل دریافت کی، لیکن محکمہ ایجوکیشن نے پوری تفصیل فراہم نہیں کی تاہم انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر ملک بھر میں نیوٹیک کے زیر اہتمام 1535 ادارے کام کررہے ہیں جن میں 792 پنجاب، 93 جمو کشمیر، 116 اسلام آباد اور صرف 93 بلوچستان سے ہیں جبکہ ان 93 میں سے 47 صرف کوئٹہ میں ہیں جبکہ بلوچستان کے 41 میں سے 20 اضلاع میں سرے سے کوئی ٹیکنیکل ادارہ وجود ہی نہیں رکھتا ہے۔ اس پر سینٹر جان محمد بلیدی نے سخت احتجاج رکارڈ کراتے ہوئے سوال کو کمیٹی میں دینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ نیو ٹیک بلوچستان میں ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا ہے وقت وحالات کا تقاضہ ہے کہ تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے لیکن حکومت اور اس کے ادارے عوام کی ضرورت پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیو ٹیک اور محکمہ تعلیم سوالات کا ٹھیک انداز میں جواب بھی نہیں دے رہے ہیں اور وزیرتعلیم بھی پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور نہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے بلوچستان یکسر نظرانداز ہے اس پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے جو اسکالرشپ دیئے گے ہیں اور جن تعلیمی اداروں کو نیوٹیک سے منسلک کیا گیا ہے ان کے نتائج کس قدر درست ہیں۔ انھوں نے کہاکہ یہ ٹکنیکل ایجوکیشن کے مسائل اہم ہیں ان پر دوبارہ سوالات جمع کئے جائیں گے اور اداروں کو بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
بلوچستان کے 41 میں سے 20 اضلاع میں سرے سے کوئی ٹیکنیکل ادارہ وجود ہی نہیں رکھتا ہے،سینیٹر جان محمد بلیدی

ٹیگز:
سینیٹر جان محمد بلیدی
