اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیریئر ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فرد جرم عائد کرنے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شارخ ارجمند نے اپیلوں پر سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کاپیاں مل گئی ہیں؟ وکیل ریاست علی آزاد نے جواب دیا کہ کاپیاں نہیں ملیں، وہ یہ پڑھنا چاہتے ہیں کہ فرد جرم کیسے عائد کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے اختیار کے بغیر حکم جاری کیا۔
وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ 12 مارچ 2025 سے کچھ عرصہ قبل تک کیس ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں زیر سماعت تھا، ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے کے مطابق جس عدالت میں چالان جمع ہوچکا ہو، وہی کیس کی سماعت کرے گی۔ ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فرد جرم بھی ان کی ذاتی موجودگی میں پڑھ کر نہیں سنائی گئی۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی غیر موجودگی میں کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی، فرد جرم عائد کرتے وقت ملزمان کی ذاتی موجودگی ضروری تھی اور اس معاملے میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔
ریاست علی آزاد نے کہا کہ فرد جرم ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے، اگر بنیاد درست نہ ہو تو اس پر کھڑی ہونے والی ٹرائل کی عمارت غیر قانونی تصور ہوگی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل روک دیا جائے۔جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہو رہا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ پہلے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی ہوتی رہی، تاہم گزشتہ سماعت سے جیل ٹرائل شروع ہوگیا ہے۔
فرد جرم پر دستخطوں سے متعلق سوال پر ریاست علی آزاد نے کہا کہ فرد جرم کے وقت ان کے دستخط موجود ہیں، تاہم ملزمان کے دستخط نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جس وقت انہوں نے دستخط کیے، ملزمان موجود نہیں تھے، اس لیے ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی جائے۔جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھے اور فرد جرم کے وقت وکیل کی حاضری بھی لگی ہوئی ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ ملزمان کو جیل میں چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور اس حوالے سے بیان حلفی بھی جمع کروایا گیا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں دائر تمام درخواستیں مسترد کردی گئیں، ریکارڈ اور کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی طلب کی گئی تھی۔ انہوں نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد ہونے کا حکم بھی چیلنج کر رکھا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیلوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ آرڈر کرکے آگاہ کریں گے، جبکہ عدالت نے متعلقہ فریقین کے آنے کے بعد معاملہ دیکھنے کا عندیہ دیا۔
دوسری جانب، اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے کیس کی سماعت کی۔ملزمان کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں، تاہم انہوں نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اکتوبر صبح 10 بجے تک ملتوی کردی۔

