لورالائی(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع لورالائی کے ضلعی ایگزیکٹیو کا اجلاس لورالائی کے علاقے قلعہ زنگیوال میں بلال خان کی رہائش گاہ پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پشتونخواسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نعمت شبوزئی، غنی فدای ، سید اکبر خان، سلام ناصر، ضلع سیکرٹری مصطفیٰ کمال، پشتونخوا ایس او زونل سیکرٹری اطلاعات وحدت افغان، زونل آفس سیکرٹری زویب خان کبزئی، پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ارکان نعمت شبوزئی، ، محبت ملازئی اور مالک حیدرزئی، جبکہ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع لورالائی کے سیکرٹری فرید خان، ضلعی سینئر معاون سیکرٹری منظور خان زخپیل اور ضلعی ایگزیکٹیو کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع لورالائی کی تنظیمی فعالیت، درپیش مسائل اور مستقبل کے لائحۂ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تنظیم کو ضلع بھر میں فعال، منظم اور مستحکم بنانے کے لیے مختلف تنظیمی فیصلے کیے گئے۔ اس سلسلے میں لورالائی یونیورسٹی، میڈیکل کالج، دیگر کالجز، سکولوں اور مختلف علاقوں میں طلبہ و نوجوانوں کو پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم پر منظم کرنے کے لیے ایک مؤثر اور جامع حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جبکہ محکوم اقوام کی قومی، سیاسی، سماجی اور معاشی ترقی میں نوجوانوں، بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نوجوانوں میں اپنی قومی خودمختاری کے حصول، قومی وسائل پر اختیار قائم کرنے، قومی حقوق کے دفاع اور معاشرے کو علم و شعور سے آراستہ کرنے کی بھرپور صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو منظم سیاسی جدوجہد، نظریاتی تربیت اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے قومی تحریک کا فعال حصہ بنایا جائے۔
رہنماؤں نے کہا کہ پشتونخوا سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی اور اس کی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط تاریخ قربانیوں، شہادتوں، ثابت قدمی اور قومی و سیاسی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ تنظیم نے تعلیمی حقوق کے حصول اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے کے ساتھ پشتون قومی تحریک میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم کے کارکنوں اور رہنماؤں کی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں طلبہ کو تعلیمی میدان میں متعدد کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم موجودہ حالات میں ان کامیابیوں کو آگے بڑھانے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور نوجوانوں کے لیے مزید تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی جدوجہد جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا سٹوڈنٹ آرگنائزیشن، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے پارٹی کے منشور، آئین، نظریاتی پروگرام اور بااختیار تنظیمی اداروں کے فیصلوں کی روشنی میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔ طلبہ تنظیم کی بنیادی ذمہ داری نوجوانوں میں قومی و سیاسی شعور بیدار کرنا، انہیں منظم کرنا، ان کی نظریاتی و تنظیمی تربیت کرنا اور تعلیمی اداروں میں ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے مؤثر جدوجہد کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی، نظم و ضبط اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی۔
اجلاس میں لورالائی یونیورسٹی میں طلبہ کو درپیش تعلیمی، انتظامی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ یونیورسٹی، میڈیکل کالج، دیگر کالجز اور سکولوں میں طلبہ کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے حکومت، محکمہ تعلیم اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور تعلیمی اداروں میں سازگار ماحول، معیاری تعلیم اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں، تاکہ طلبہ بلا رکاوٹ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پشتونخوا سٹوڈنٹ آرگنائزیشن ضلع لورالائی کو مزید فعال اور مضبوط بنانے، تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دینے، طلبہ کے مسائل اجاگر کرنے اور نوجوانوں تک تنظیم کا قومی، سیاسی اور نظریاتی پیغام پہنچانے کے لیے تمام دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تنظیم کے عہدیداروں اور کارکنوں کو تعلیمی اداروں اور مختلف علاقوں میں منظم رابطہ مہم چلانے اور نوجوانوں کو تنظیمی صفوں میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سرخی بنادو

