کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے شہید ولید صالح بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے قاتلوں کا بے نقاب نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انصاف کے منتظر خاندان کے لیے یہ صورت حال اذیت ناک ہے اور غمزدہ خاندان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ولید صالح بلوچ کا قصور صرف یہ تھا کہ ان کا تعلق ایک پرامن سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کا نہ تو سیاست میں کوئی فعال کردار تھا اور نہ ہی وہ کسی کاروباری لین دین سے وابستہ تھے، اس کے باوجود انہیں ایک ایسے جرم کی سزا دی گئی جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان کو نئی زندگی شروع کرنے سے صرف 10 روز قبل شہید کردیا جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا جبکہ ایک سال گزرنے کے باوجود قاتلوں کی شناخت اور انہیں بے نقاب کرنے میں ناکامی مزید تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایک بے گناہ نوجوان کو محض اس بنا پر زندگی سے محروم کردیا گیا کہ وہ ایک رکن صوبائی اسمبلی کا بھائی تھا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود خاندان کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس المناک واقعے میں ملوث عناصر کون ہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاتل اس قدر طاقتور ہیں کہ انہیں بے نقاب نہیں کیا جاسکا، حالانکہ ہمارے ادارے سمندر میں سوئی تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ادارے پیچیدہ معاملات کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو شہید ولید صالح بلوچ کے قاتلوں کو ایک سال گزرنے کے باوجود منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاسکا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف جعلی خبروں کے ذریعے بھی خاندان کی دل آزاری کی گئی حالانکہ خاندان نے کسی فرد کو قاتل نامزد نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے ساتھ سیاسی، کاروباری، اراضی یا کسی اور نوعیت کی دشمنی ہے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم بلوچستان میں پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور جمہوری اصولوں کے مطابق اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک خاندان کے لیے اپنے پیارے کو کھونے کا دکھ اپنی جگہ ناقابل برداشت ہوتا ہیلیکن جب ایک سال گزرنے کے باوجود انصاف کی امید پوری نہ ہو اور قاتلوں کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہ آئیں تو یہ کرب مزید بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ولید صالح بلوچ کے اہل خانہ کا حق ہے کہ انہیں واقعے کی تحقیقات اور پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان کے خاندان کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے اور ان کے بے گناہ بھائی کے قاتلوں کو اب تک بے نقاب کیوں نہیں کیا جاسکا؟ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ایک بے گناہ انسان کو شہید کرنے سے نہیں ڈرے، وہ اپنے جرم کی ذمہ داری قبول کرنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ شہید ولید صالح بلوچ کی پہلی برسی کے موقع پر 19 ستمبر کو پنجگور میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا، نیشنل پارٹی کے کارکن، سیاسی رہنماء، جمہوری جدوجہد سے وابستہ کارکنوں اور عوام سے بھرپور شرکت کرکے قاتلوں کو سخت پیغام دیں میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ تعزیتی ریفرنس کا مقصد شہید ولید صالح بلوچ کی سیاسی و سماجی وابستگی اور ان کی یاد کو خراج عقیدت پیش اور انصاف کے مطالبے کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری اور انصاف کے حصول کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
ولید صالح کی شہادت کو ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے قاتلوں کا بے نقاب نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، میر رحمت صالح بلوچ

