کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیرِ اہتمام کوئٹہ شار علاقائی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کے بند اجلاس کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کی۔ کانفرنس کے بند اجلاس میں علاقائی سیکریٹری سید عبداللہ آغا نے گزشتہ کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس کا سینکڑوں مندوبین نے جائزہ لیا اور منظوری دی۔ کانفرنس کے نظارت کے فرائض ضلع کے سینئر معاون سیکریٹری و صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر اور ضلع معاون سیکریٹری اکبر کلیوال نے انجام دیے۔ بند اجلاس سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز محمود ریاض، ملک عبیداللہ مسیزی اور پروفیسر اسد ترین نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹری مالیات محمد یوسف خان کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز رحمت اللہ صابر، عبدالرازق خان بڑیچ اور علی محمد ترین سمیت ضلع کے ڈپٹی سیکریٹریز اور مرکزی کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوران تنظیمی امور کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کے لیے کوئٹہ شار کو دو علاقائی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا اور نئے ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ کوئٹہ شار اول کے لیے سید عبداللہ آغا علاقائی سیکریٹری اور ملک شفیق خان سینئر معاون سیکریٹری منتخب ہوئے، جبکہ منظور خان، نظر جان ترین، اجمل خان، رحمت اللہ، قدرت اللہ غلجی، حبیب الرحمن بریچ، حاجی زین اللہ، سمیع اللہ خان، عبدالکبیر غلجی، نظام کھرل اور مظفر خان علاقائی معاونین منتخب ہوئے۔ نومنتخب عہدیداروں سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری مالیات محمد یوسف خان کاکڑ نے حلفِ وفاداری لیا۔ اسی طرح کوئٹہ شار دوم کے لیے عارف خان یوسفزئی علاقائی سیکریٹری اور سلمان خان سینئر معاون سیکریٹری منتخب ہوئے، جبکہ رفیع اللہ پشتون، قاری اسد، عثمان لمڑ، حاجی شفیع اللہ، عدنان خان خٹک، باچا خان، عبداللہ آغا، عرفان پاسون اور خیام شاہ علاقائی معاونین منتخب ہوئے۔ نومنتخب عہدیداروں سے پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے حلف لیا۔کانفرنس کے کھلے اجلاس سے پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ، مرکزی سینئر سیکریٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ اور صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے خطاب کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کامیاب اور پرافتخار کانفرنس کے انعقاد پر علاقائی یونٹ شار کی سابقہ کابینہ اور تمام کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، منظم اور فعال پارٹی ہی اپنے آئین، منشور اور تنظیمی اغراض و مقاصد پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ملی شہید عثمان خان کاکڑ اور استاد عبدالرحیم خان مندوخیل کے نظریات و افکار کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے وطن کی خودمختاری، قومی حقوق کے حصول اور پشتونخوا وطن سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتونخوا وطن دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ہمارے لیے نہ مساجد محفوظ ہیں، نہ جرگے، نہ کھیلوں کے میدان اور نہ ہی عوامی جلسے۔ دہشت گردی نے ہمارے عوام کو جس قدر متاثر کیا ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہمارے عوام کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ جنوبی پشتونخوا میں دہشت گردی اس حد تک پھیل جائے گی کہ دہشت گرد کوئٹہ شہر تک پہنچ جائیں گے، لیکن آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گرد نہ صرف کوئٹہ بلکہ جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ ہنہ اْڑک سے منگی، منگی سے زیارت، ہرنائی، شاہرگ، قلعہ عبداللہ، پنجپائی، سرانان اور تقریباً تمام اضلاع میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ زیارت اور ہنہ اْڑک کے سانحات کے بعد عوام اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد و اتفاق کے نتیجے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو کسی حد تک عارضی طور پر روکنے میں مدد ملی، لیکن یہ صورتحال مستقل حل نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد اور منظم ہو کر ایسی فیصلہ کن تحریک شروع کرنا ہوگی جس میں لاکھوں افراد شریک ہوں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا تنظیم کا کام نہیں، بلکہ تمام سیاسی قوتوں اور عوام کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ قدرت نے پشتونخوا وطن کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ یہاں جنگلات، پانی، مختلف اقسام کی معدنیات، قیمتی و نایاب ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ آج دنیا کو نایاب زمینی معدنیات (Rare Earth Minerals) کی ضرورت ہے اور پشتونخوا وطن بھی ان وسائل سے مالامال ہے۔ ان وسائل پر قبضے اور ان کے استحصال کے مفادات کے تناظر میں پشتونخوا وطن پر مسلط مصنوعی دہشت گردی اور بدامنی کو سمجھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پنجاب میں امن، تعلیمی اداروں اور جدید سفری سہولتوں کی ترقی نظر آتی ہے، جبکہ دوسری طرف پشتونخوا وطن دہشت گردی، بدامنی، معاشی تباہی اور بنیادی سہولتوں کی محرومی کا شکار ہے۔ ہمارے عوام کے لیے تجارت کے راستے بند کر دیے گئے ہیں، زراعت تباہ ہو چکی ہے اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ تین سال سے چمن میں عوامی دھرنا جاری ہے، لیکن چمن کے ذریعے تجارت اور آمدورفت کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اسی طرح شوراوک، قمرالدین کاریز، بادینی، انگور اڈہ، غلام خان اور طورخم سمیت مختلف تجارتی راستوں پر پابندیوں اور رکاوٹوں نے پشتونخوا وطن کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان حالات سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔پارٹی چیئرمین نے کارکنوں پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں اپنی تنظیم کو مضبوط، فعال اور منظم بنانے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اگر ہم اپنی قومی غیرت، خودمختاری اور قومی حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک مضبوط سیاسی پارٹی تشکیل دینا ہوگی، جو عوام کو منظم کرتے ہوئے قومی مقاصد کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں مختلف علاقوں کی کامیاب اور تاریخی علاقائی کانفرنسوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کانفرنس کی کامیابی پر تمام کارکنوں، مندوبین اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔کانفرنس کے موقع پر 50 سے زائد افراد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جن کا پارٹی رہنماؤں نے خیرمقدم کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں علاقائی یونٹ شار کی جانب سے پرتکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اپنے وطن کی خودمختاری، قومی حقوق کے حصول اور پشتونخوا وطن سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے،خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
