اسلام آباد ر(ڈیلی گرین گوادر)اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے رکاوٹیں ہٹانے کے کیس میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے اورعوام کو اشتعال دلانے کے الزامات کے تحت تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک کیس کی کاپیز بھی نہیں ملیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی وکیل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت میں اعتراضات اٹھائے۔زینب جنجوعہ نے کہا کہ نہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کیس کی کاپیز فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی وکلا سے ملاقات ہوئی ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں کرسکتی۔
عدالت نے ملزمان اور ان کی وکیل کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔اس موقع پر جج طاہر عباس سپرا نے زینب جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس آرڈر کو چیلنج کرسکتی ہیں۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 اکتوبر2026 تک ملتوی کردی۔
ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ صورتحال کا پیٹرن واضح ہے۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ان کی اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کیے جانے کے بعد حکومت مسلسل درج ہونے والے مقدمات میں سزائیں دلوانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ دونوں کو “غیر قانونی طور پر قید” رکھا جا سکے۔

