قلعہ سیف اللّٰہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین ہی تعلیم یافتہ اور باشعور قوم بنا سکتی ہیں۔ زندگی صرف غیبت اور نمود و نمائش کا نام نہیں، بلکہ منظم جدوجہد سے عبارت ہے۔ ہمارے معاشرے کی 52 فیصد سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ انہیں عملی زندگی سے نکالنے کا مقصد آدھی سے زائد آبادی کو فالج زدہ کرنے کے مترادف ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ قلعہ سیف اللّٰہ شہر علاقائی یونٹ کے زیرِ اہتمام خواتین کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے، جس سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری و چیئرمین میونسپل کمیٹی قلعہ سیف اللّٰہ سید اکبر کاکڑ، ضلعی سیکرٹری شمس رودوال، میگا کاکڑ، شکیبہ روشان، خیر النساء اور گل بادانی نے بھی خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر خواتین ونگ کی شہر علاقائی یونٹ کی کابینہ اور چار ابتدائی یونٹوں کے انتخابات بھی عمل میں لائے گئے۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آج کے اجتماع میں خواتین کی بڑی تعداد میں منظم شرکت قابلِ تحسین اور قابلِ فخر ہے، اور خواتین کی سیاست پر پابندی کا تصور ناقابلِ قبول ہے۔ سیاست اور سیاسی جدوجہد قومی آزادی، قومی خودمختاری، اچھی و معیاری زندگی کے حصول، برابری، سیالی، سر و مال کے تحفظ اور زندگی کے ہر شعبے میں حقوق و اختیارات کے حصول کا نام ہے، اور اس میں خواتین کی شرکت اور فعال کردار قومی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں رہتے ہوئے پشتون عوام کے سر و مال اور عزت کا تحفظ نہیں، معیاری زندگی، دو وقت کی روٹی، علاج و تعلیم سے محرومی ہماری قسمت بنا دی گئی ہے۔ رہنے کے لیے گھر اور چھت تک نہیں، معمولی بیماری سے مرنا معمول بن گیا ہے، اور دنیا میں حیوانوں کو جو سہولت حاصل ہے، وہ ہمارے انسانوں کے لیے نہیں۔ پاکستان کے ہر علاقے میں پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ہمارے عوام کا سر و مال محفوظ نہیں، جبکہ تمام پشتونخوا وطن پر جعلی دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت مسلط کی گئی ہے، جس سے نجات کے لیے قوم کے ہر طبقے کو آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص، رجعت پسند اور تنگ نظر عناصر کی جانب سے خواتین کی سیاست میں شمولیت پر اعتراضات اور بلاجواز تنقید نامعقول اور نامناسب ہے۔ ملک کے ہر گوشے میں خواتین کی ہر شعبۂ زندگی میں شمولیت پر انہیں اعتراض نہیں، لیکن جب پشتون قوم کے مفاد میں قدم اٹھایا جاتا ہے تو اسے ناروا قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے قلعہ سیف اللّٰہ کے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی پانچویں برسی کے تاریخی اور فقید المثال جلسۂ عام میں خواتین کی بھرپور شرکت پر بلاجواز تنقید کی گئی، لیکن دوسری طرف جشنِ آزادی کے پروگراموں میں انہی قوتوں نے خصوصی طور پر کوئٹہ آ کر خواتین کے ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 55 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور انہیں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رکھنے کا مقصد نصف بدن کو فالج زدہ رکھنا ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدا وہ دن جلد لائے جب ہماری کوئی ماں یا بہن اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر میری جگہ پارٹی کی چیئرمین بنے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے اور بچی کی تمام زندگی ماں کی آغوش میں تربیت پاتی ہے، لہٰذا تعلیم یافتہ اور باشعور مائیں ہی تعلیم یافتہ قوم پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نرم دل کی مالک اور ارادے کی پکی ہوتی ہیں، اور جس بات کے حصول کے لیے ان کی ذہن سازی ہو جائے تو وہ اس کے لیے سب سے زیادہ محنت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی صرف غیبت، جیولری اور اچھے کپڑوں کا نام نہیں، بلکہ عزت و احترام اس مرد اور خاتون کو حاصل ہوتا ہے جو انسانیت کے اعلیٰ اصولوں پر یقین رکھتے ہوں، رحم دلی، بھائی چارگی اور اچھے اقدار کے مالک ہوں، اچھی صلاحیتوں، پاک دل اور پاک جذبے کے ساتھ اپنے عوام کی خدمت کرتے ہوں انہوں نے کہا کہ اسلام نے ہماری خواتین کو جو حق دیا ہے، ہم عملی زندگی میں اس پر بھی یقین نہیں رکھتے، بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق تک ادا نہیں کر سکتے اور گھریلو زندگی میں مرد کو خواتین پر ہر شعبے میں زیادہ ترجیح اور اہمیت دیتے ہیں، جو درست نہیں۔ خواتین سیاست میں حصہ لیتے ہوئے ملازمت سمیت ہر شعبۂ زندگی میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں، اور اسلام میں حضرت خدیجہؓ کی زندگی اور کردار بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی گھریلو زندگی میں بھی خواتین کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا اور گھر کے ہر کام کی ذمہ داری خواتین پر نہیں، بلکہ ہمیں اور آپ کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرتے ہوئے اپنے کام خود کرنے اور انہیں خودداری اور برابری کی سطح پر زندگی گزارنے کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے سینکڑوں خواتین کی تنظیمی اجلاس میں شرکت اور منتخب عہدیداروں کو مبارکباد، آفرین اور شاباش دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ تاریخی جرأت، فعالیت اور سیاسی سرگرمی تمام پشتونخوا وطن کے عوام کے لیے قومی دلیری اور سیاسی بیداری کی نوید ثابت ہوگی۔
تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین ہی تعلیم یافتہ اور باشعور قوم بنا سکتی ہیں : خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
