لاہور (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق اور ڈپٹی سیکرٹری، ڈائریکٹر میڈیا سیل اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی ثمینہ سعید نے اپنے مشترکہ بیان میں ضلع نوشکی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث کرفیو کے نفاذ پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ایک عرصۂ دراز سے بدامنی، دہشت گردی اور احساسِ محرومی کی زد میں ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین پہلے ہی صحت، تعلیم، صاف پانی، نقل و حمل اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ دور افتادہ علاقوں میں حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد میسر نہیں آتی، بچیوں کی تعلیم عدمِ تحفظ اور سہولیات کے فقدان کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی ہے، جبکہ کرفیو اور بدامنی ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں خواتین کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ثمینہ سعید نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی ترقی کا انحصار امن، انصاف اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ جب ایک صوبہ مسلسل خوف، بے یقینی اور تشدد کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو تو نہ صرف ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں بلکہ تعلیم، صحت، تجارت اور سماجی زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ بلوچستان کے عوام، خصوصاً خواتین اور نوجوان، ایک محفوظ، باوقار اور پُرامن زندگی کے حق دار ہیں۔انہوں نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ ادا کریں۔ دہشت گردی، تخریب کاری اور جرائم کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل صرف سکیورٹی اقدامات سے حل نہیں ہوں گے، بلکہ صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے جامع اور دیرپا پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ جب تک صوبے کے عوام، خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک پائیدار امن اور قومی یکجہتی کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ثمینہ سعید نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان کو امن، استحکام اور خوشحالی سے نوازے، تمام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت فرمائے اور وطنِ عزیز کو دہشت گردی، انتشار اور بدامنی کی ہر سازش سے محفوظ رکھے۔
نوشکی میں کرفیو بلوچستان کے سنگین امن و امان کے بحران کی عکاسی کرتا ہے، خواتین سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں: ڈاکٹر حمیرا طارق ـثمینہ سعید

