کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ایک سو سے زائد لوگوں کا خون بہا ہے جن میں شہری ،پولیس کے جوان ، سمیت مستونگ میں عیسائی برادری کے دو نوجوانوں کا خون بہا سڑکوں پر لواحقین دھرنا دیئے بھیٹے ہیں حکومت بجائے کہ پارلیمنٹ سے رجوع کرکے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرتا سنگین مسئلے کو پارلیمنٹ میں زئر بحث لاتا قومی اسمبلی و سینٹ کے اسٹینڈنگ کمیٹیز برائے داخلہ میں زیر بحث لاتا ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس کا آہین میں کوئی تصور ہی نہیں ، نیشنل پارٹی کا روز اول سے یہ موقف رہا ہے کہ جمہوری اداروں کے تقدس کو اگر پامال کیا گیا تو وہ اپنی افادیت کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دھرنا کے شرکا وزیراعظم اور وزیراعلی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ انہیں بے اختیار اور کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں ، اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ اب بھی وقت ہے بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی انداز سے سیاسی قیادت ، پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے عوام کا اعتماد برقرار کرنے کے لیئے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا جائے اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے بصورت دیگر حالات بہتری کے بجائے مزید ابتری کی جانب گامزن رہینگے۔
آج دھرنا کے شرکا وزیراعظم اور وزیراعلی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ انہیں بے اختیار اور کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں ، اسلم بلوچ

ٹیگز:
اسلم بلوچ
