کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے عوام سے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کرکے ثابت کیا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو کوئی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ بلوچستان ترقی، اصلاحات، میرٹ، گڈ گورننس اور امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور اب اس ترقی کے سفر کو کوئی نہیں روک سکتا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا:
“جب آنکھوں میں ارمان لیا، منزل کو اپنا مان لیا، پھر مشکل اور آسان ہے کیا، جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا”
انہوں نے کہا کہ یہی شعر ان کی کابینہ اور عوامی حکومت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے عوام سے مختلف وعدے اور دعوے کیے تو ناقدین اور مخالفین نے طنز کے نشتر برسائے ، تاہم ان کی حکومت نے ثابت کیا کہ جو وعدہ کیا جاتا ہے اسے پورا بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر ٹھان لیا ہے تو ٹھان لیا ہے” ہماری حکومت کا عملی شعار ہے وزیر اعلیٰ نے رواں مالی سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان سے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان کا کوئی بھی اسکول بند نہیں رہے گا۔ آج صوبے کے 15 ہزار 370 اسکولوں میں سے 15 ہزار فعال ہیں جبکہ 370 اسکول صرف اس وجہ سے بند ہیں کیونکہ وہ غلط مقامات پر تعمیر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 14 ہزار اساتذہ کی شفاف بھرتی، 3 ہزار 200 سے زائد اسکولوں کی بحالی اور 7 لاکھ 20 ہزار بچوں کا داخلہ کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے انہوں نے بتایا کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں 14 فیصد کمی آئی ہے، ڈراپ آؤٹ ریٹ میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ تعلیم مکمل کیے بغیر اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 11 فیصد کمی آئی ہے۔ یوتھ لٹریسی ریٹ 49 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2 ہزار 800 سے زائد طبی عملے کی بھرتی کی گئی، 4 ہزار 519 ڈاکٹروں کو ترقی دی گئی، 164 بنیادی مراکز صحت فعال بنائے گئے اور او پی ڈی میں 10 لاکھ مریضوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جدید ٹراما سینٹر کام شروع کرچکا ہے، کینسر انسٹیٹیوٹ مکمل ہوچکا ہے، سیٹلائٹ ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز ہوچکا ہے، تمام فارمیسیز کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے جبکہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیورو سرجری اینڈ نیورولوجی افتتاح کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ادویات کی دستیابی کی شرح 46 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زچہ و بچہ مراکز میں ضروری سامان کی دستیابی 11 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہوگئی ہے، ایمرجنسی ادویات کی دستیابی 94 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ زچہ و بچہ کی بنیادی سہولیات 4 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 2024 کے بعد صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ ویکسی نیشن کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ چکی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں حاضری کی شرح 45 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 82 فیصد ہوگئی ہے جبکہ صحت مراکز میں حاضری 80 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ فائلوں پر فیصلوں کا دورانیہ 92 دن سے کم ہوکر اوسطاً 13 دن رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ماضی میں یہ شرح 65 فیصد سے زیادہ نہیں تھی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن اور میرٹ کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے کیونکہ میرٹوکریسی ہی ترقی کا واحد راستہ ہے اور اسی کے ذریعے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے انہوں نے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ پیپلز ٹرین منصوبہ جلد سریاب سے کچلاک تک میٹرو طرز کی ٹرین سروس کی شکل اختیار کرے گا۔ پورے صوبے میں فائبر آپٹک نیٹ ورک پھیلایا جائے گا، تمام اضلاع میں منڈیاں اور اڈے فعال ہوں گے، تین ہزار اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر ہوگی، پانچ سو سے زائد بنیادی مراکز صحت میں ٹیلی میڈیسن سروس شروع ہوگی جس سے 85 فیصد خواتین مستفید ہوں گی، ایک ہزار سے زائد مڈل اور ہائی اسکول اپ گریڈ کیے جائیں گے،…
جب ٹھان لیا تو ٹھان لیا، جو کہا عملاً کر دکھایا، بلوچستان ترقی کی پرواز بھر چکا ہے، اب کوئی اس پرواز کو نہیں روک سکتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب

ٹیگز:
وزیر اعلیٰ بلوچستان
