کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے سلسلے میں سینٹر آف ایکسیلنس حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) بلوچستان کیمپس میں ’’کمیونٹی کی مضبوطی کے ذریعے ماحولیاتی انتہا پسندی کا مقابلہ‘‘ کے موضوع پر ایک اہم راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ماحولیاتی ماہرین، ماہرین تعلیم، سرکاری اداروں کے نمائندگان، سیکیورٹی ماہرین، محققین اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں مقامی آبادی کی استعداد کار میں اضافے، بین الادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور پائیدار حکمت عملیوں کی تشکیل پر غور و خوض کرنا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر آف ایکسیلنس کے چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات آج دنیا بھر کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی مراکز، تحقیقاتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز کے مابین مؤثر رابطہ اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عوامی شعور کی بیداری اور کمیونٹی کی فعال شمولیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کے مؤثر تدارک کے لیے مقامی سطح پر لچکدار اور مضبوط کمیونٹیز کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی و تحقیقی اداروں، حکومتی محکموں اور عوام کے درمیان مضبوط اشتراک عمل کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں محکمہ داخلہ کی نمائندہ ڈاکٹر فہمیدہ، سیکیورٹی امور کے ماہر ایس پی محمد شریف، ماہر ماحولیات ڈاکٹر رابعہ ظفر، ماحولیاتی افسران، محکمہ تعلیم کی نمائندہ لاریب احتشام اور نسٹ بلوچستان کیمپس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ قاسم علی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور کمیونٹی ریزیلینس کے فروغ کے لیے مربوط پالیسی سازی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے، نوجوان نسل کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ، ماحولیاتی آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنانے، تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر عالمی یومِ ماحولیات کے پیغام کو عام کرنے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
نسٹ بلوچستان کیمپس میں ’’کمیونٹی کی مضبوطی کے ذریعے ماحولیاتی انتہا پسندی کا مقابلہ‘‘

ٹیگز:
نسٹ بلوچستان
