کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں بسیمہ میں محمد بخش کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کو پارٹی رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کے بھائی کی شہادت سے جوڑنے کی کوششوں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر دانستہ طور پر صالح خاندان کو متنازع بنانے اور انہیں ایک نئے تنازعے میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ میر رحمت صالح بلوچ کا مقتول محمد بخش سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہی کسی قسم کی ذاتی، قبائلی یا سیاسی دشمنی موجود تھی۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بسیمہ واقعے میں مارا جانے والا شخص شہید ولید صالح بلوچ کا مبینہ قاتل تھا، جو سراسر غلط اور حقائق کے منافی ہے۔ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم بعض نام نہاد نیوز چینلز اور پیجز نے بغیر کسی تصدیق اور ثبوت کے اس واقعے کو صالح خاندان کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک سوچے سمجھے پروپیگنڈے کو بھی تقویت دی۔ یہ مہم کسی حادثاتی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد سیاسی ماحول میں اشتعال اور بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید ولید صالح بلوچ کے قتل کو سات ماہ گزر چکے ہیں، مگر آج تک خاندان کی جانب سے کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ ایسی صورت میں بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے خود ساختہ کہانیاں گھڑنا اور لوگوں کو قتل کیس سے جوڑنا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اگر متاثرہ خاندان نے کسی پر الزام عائد نہیں کیا تو پھر چند سوشل میڈیا چینلز کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بسیمہ میں قتل ہونے والا شخص ولید صالح بلوچ قتل کیس سے منسلک تھا۔ ترجمان کے مطابق یہی سوال اس پورے پروپیگنڈے کے پس منظر اور مقاصد کو بے نقاب کرتا ہے۔پارٹی ترجمان نے کہا کہ شہید ولید صالح بلوچ کا سیاست سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کی شہادت دراصل ان کے والد اور بھائیوں کی جمہوری سیاست اور اعتدال پسند آواز کو کمزور کرنے کی ایک کوشش تھی۔بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اصل حقائق سامنے آنے کے بجائے مختلف افواہوں اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل قاتلوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اتنا وقت گزرنے کے باوجود کسی نے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جس سے اس معاملے سے متعلق شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بسیمہ واقعے کو غلط انداز میں پیش کرنے والے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور چینلز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان عناصر سے وضاحت طلب کی جائے گی، جبکہ جھوٹی خبریں اور بے بنیاد الزامات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہارِ رائے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی شخص یا خاندان کی عزت اور ساکھ کو جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے نقصان پہنچایا جائے۔ سیاسی اختلافات کی آڑ میں کردار کشی کی روایت معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں میڈیا کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، اس لیے ہر خبر کو نشر یا شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ناگزیر ہے۔پارٹی نے واضح کیا کہ وہ اپنے رہنماؤں کے وقار کے دفاع کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائے گی اور انہیں بلاوجہ تنازعات میں گھسیٹنے کی ہر کوشش کا سیاسی اور قانونی جواب دیا جائے گا۔
بسیمہ میں محمد بخش کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کو پارٹی رہنما اور میر رحمت صالح بلوچ کے بھائی کی شہادت سے جوڑنے کی کوششوں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور ایک منظم سازش ہے، نیشنل پارٹی

ٹیگز:
نیشنل پارٹی
