کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام کی جانب سے بلوچستان بھر کے تمام اضلاع میں حکومت کے خلاف شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے ایک ہمہ گیر، منظم اور غیر معمولی عوامی لہر کی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے تحت صوبے کے طول و عرض کے تمام اضلاع میں شٹر ڈاؤن، احتجاجی ریلیوں اور بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تحریک محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کر کے اپنے جذبات اور مطالبات کا اظہار کیا۔صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی جانب سے 2 مئی کو دی گئی کال پر 6 مئی کو صوبہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، جس پر تمام اضلاع نے نہایت قلیل وقت میں بھرپور، منظم اور غیر معمولی ردعمل دیا۔ کاروباری مراکز بند رہے اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مجموعی طور پر احتجاج پْرامن رہا، جس نے تنظیمی نظم و ضبط کا واضح ثبوت فراہم کیا، تاہم کوئٹہ میں پولیس کی جانب سے متعدد کارکنوں کی گرفتاری ایک افسوسناک پہلو کے طور پر سامنے آئی۔یہ احتجاجی تحریک متعدد سنگین اور حساس معاملات کے خلاف شروع کی گئی ہے، جن میں مولانا شیخ محمد ادریس کی شہادت، دینی مدارس کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن، رجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں اور بندشیں، مائنز اینڈ منرل بل میں حکومتی دوغلا پن، اکابر علماء کی تضحیک، اور صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال شامل ہیں۔ جے یو آئی کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ مسائل محض جماعتی نہیں بلکہ عوامی نوعیت کے ہیں، اور ان کے حل تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ضلع قلعہ سیف اللہ میں صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے خود ہزاروں افراد پر مشتمل ایک تاریخی ریلی کی قیادت کی، جو شہر کے مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ یہ مظاہرہ جے یو آئی کی مقامی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔اسکے بعد صوبائی امیر فوری طور پر پشین روانہ ہوئے جہاں پشین کے ریلی میں وہخصوصی طور پر شریک ہوئے. پشین میں صوبائی نائب امیر مولانا کمال الدین، ایم پی اے حاجی اصغر علی اور سید ظفر آغا کی قیادت میں بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں عوام اور علماء کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔پشین کے اجتماع میں شرکت کے بعد صوبائی امیر سورج ڈھلنے سے پہلے کوئٹہ تشریف لائیں اور کوئٹہ کے اجتماعت می? خصوصی شرکت کی کوئٹہ میں ہزاروں افراد پر مشتمل ایک فقید المثال ریلی نکالی گئی، جو ضلعی دفتر سے شروع ہو کر شاہراہ اقبال، باچا خان چوک سے ہوتی ہوئی منان چوک پر ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ اس تاریخی ریلی میں جے یو آئی کے مرکزی رہنماء مولانا صلاح الدین ایوبی، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر صوبائی قیادت نے بھرپور شرکت کی، جبکہ جید علماء کرام اور عوام الناس کی بڑی تعداد بھی شریک رہی۔ شرکاء کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ جلسہ گاہ میں جگہ کم پڑ گئی اور پورا شہر عوامی قوت کے ایک بڑے مظاہرے کا منظر پیش کرتا رہا۔ضلع زیارت میں صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ قیادت میں ایک نہایت بڑی، منظم اور باوقار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جو شہر بھر سے گزرتے ہوئے مرکزی چوک میں ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ مقررین نے نہ صرف صوبائی سطح کے مسائل بلکہ زیارت کی مقامی صورتحال، بدامنی، کرپشن اور انتظامی نااہلی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور ذمہ داران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔قلعہ عبداللہ میں سینیٹر حاجی شکور خان غیبزئی، حاجی نواز خان کاکڑ اور دیگر قائدین کی قیادت میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ خضدار میں مکمل شٹر ڈاؤن کے ساتھ ایک بڑی ریلی اور جلسہ منعقد ہوا، جس کی قیادت مولانا قمر الدین، مولانا سائیں فیض محمد اور اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کی۔ قلات میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ کی قیادت میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں جمعیت علماء اسلام کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی

ٹیگز:
جمعیت علماء اسلام
