لاہور (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ملک کے مختلف اضلاع مردان، ساہیوال، چکوال، اسلام آباد (سوہان زون 2) اور سکرنڈ (نواب شاہ) میں ممبر سازی مہم کے سلسلے میں عظیم الشان عوامی جلسہ ہائے عام منعقد ہوئے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی اور قرآن کے نظام کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کا عزم ظاہر کیا۔مردان میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں صرف نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین اگر بیدار ہو جائیں تو معاشرے میں حقیقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے، اور قرآن سے مضبوط تعلق ہی ہماری نجات کا واحد راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبر سازی مہم دراصل ایک نظریاتی اور فکری انقلاب کی بنیاد ہے جس کے ذریعے معاشرے کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ساہیوال میں منعقدہ جلسہ عام سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے پیغام کو عام کرنے اور “ہر دل تک قرآن” کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کا پیغام ہر فرد تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اسی کے ذریعے ایک صالح اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر خواتین کی کثیر تعداد نے ہاتھ اٹھا کر جماعت اسلامی کا حصہ بننے اور قرآن کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔چکوال میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں جماعت اسلامی کے وژن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ “بدل دو نظام” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی جدوجہد ہے۔ انہوں نے عوام الناس تک فکرِ مودودی کو مؤثر انداز میں پہنچانے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا دست بازو بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی اخلاقی و فکری تعمیر کے لیے ہے، اور اس میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ جلسے کے دوران خواتین کی بڑی تعداد نے ممبر شپ فارم پُر کیے اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔اسلام آباد کے سوہان زون 2 میں منعقدہ پروگرام سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عفت سجاد نے سیرتِ رسول اکرم ﷺ کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بہترین انسان وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن سے تعلق مضبوط کیےنے بغیر نہ فرد کی اصلاح ممکن ہے اور نہ ہی معاشرے کی۔ انہوں نے حاضرین کو دعوت دی کہ وہ اپنی زندگیوں میں قرآن کو نافذ کریں اور اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سکرنڈ (نواب شاہ) میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطیہ نثار نے ممبر سازی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم محض افراد کو شامل کرنے کی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر کردار سازی کی تحریک ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گھروں سے اصلاح کا آغاز کرتے ہوئے پورے معاشرے کو قرآن کے نور سے منور کیا جائے گا اور خواتین اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔تمام مقامات پر منعقدہ ان پروگرامز میں خواتین نے بھرپور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، جماعت اسلامی کے پیغام سے وابستگی کا اظہار کیا اور اجتماعی طور پر قرآن کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اختتامی مراحل میں دعا کے ساتھ یہ اجتماعات اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے کہ ملک میں حقیقی، مثبت اور اسلامی تبدیلی کے لیے یہ جدوجہد مزید تیز کی جائے گی۔
عورت بیدار ہو تو معاشرہ سنور جاتا ہے , قرآن کا نظام ہی نجات کا راستہ ہے . ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیرا طارق
