لاہور (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جاری ممبرشپ ڈرائیو کے سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں لالہ موسیٰ (گجرات)، ظاہر پیر (رحیم یار خان) اور جیکب آباد میں بڑے اور پُرجوش اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے پیغام اور مقصد سے وابستگی کا اعادہ کیا۔ ان اجتماعات میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی قیادت نے شرکت کی اور خواتین کو فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔لالہ موسیٰ میں میری لینڈ مارکی میں منعقدہ ممبرز کنونشن میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تقریب میں ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید، ناظمہ حلقہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان اور ناظمہ ضلع نائلہ عامر نے خصوصی شرکت کی۔ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کو بااعتماد اور باہمت بننے کی ضرورت ہے، جو ایک محفوظ اور اسلامی معاشرے میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے پر زور دیا تاکہ آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت ممکن ہو سکے۔ثمینہ احسان نے خواتین کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم مقصد کے لیے جمع ہونے والی یہ قوت اگر متحد رہے تو اللہ کے نظام کے قیام کی جدوجہد کامیاب ہو سکتی ہے۔اجتماع میں خواتین نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور ممبرشپ مہم میں دلچسپی کا اظہار کیا۔رحیم یار خان کے علاقے ظاہر پیر میں “ہر دل تک قرآن” کے عنوان سے ایک پروقار عوامی جلسہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سطح کی ذمہ داران نے شرکت کی۔مرکزی نگران قرآن پروجیکٹ ماہر سماجی نفسیات انیلہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد قرآن کے پیغام کو ہر فرد تک پہنچانا اور ایک عادلانہ نظام قائم کرنا ہے۔ انہوں نے موجودہ نظام کو ناانصافی اور بے راہ روی کا سبب قرار دیتے ہوئے اس کی تبدیلی پر زور دیا۔صوبائی و ضلعی قائدین نے بھی خواتین کو عملی جدوجہد میں شامل ہونے کی تلقین کی۔جلسے میں خواتین نے بڑی تعداد میں ممبرشپ فارم پُر کیے جبکہ آئی ٹی ڈیسک کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن بھی کی گئی۔تقریب میں مہمانوں کو سرائیکی ثقافت کے مطابق اجرک پیش کی گئی اور اس عزم کے ساتھ اختتام ہوا کہ قرآن کے پیغام کو گھر گھر پہنچایا جائے گا۔جیکب آباد میں منعقدہ ممبر کنونشن میں بھی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ممبر سازی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ڈپٹی سیکریٹری عطیہ نثار نے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش مسائل جیسے بدامنی، کرپشن، مہنگائی اور نظامِ عدل کی کمزوریوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی ہی وہ پلیٹ فارم ہے جو مستقل مزاجی کے ساتھ عوام کی رہنمائی کر رہی ہے۔انہوں نے “بدل دو نظام” کے نعرے کو عملی جدوجہد کی دعوت قرار دیتے ہوئے خواتین کو اس تحریک کا حصہ بننے کی اپیل کی۔صوبہ سندھ کی ذمہ داران نے ایمان کی عملی تقویت اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کو ناگزیر قرار دیا۔پروگرام کے اختتام پر دعا کے ساتھ ملک کی بہتری اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی ممبرشپ ڈرائیو عروج پر ` لالہ موسیٰ، ظاہر پیر اور جیکب آباد میں عظیم الشان اجتماعات، خواتین کی بھرپور شرکت اور نظامِ قرآن کے نفاذ کا عزم

ٹیگز:
جماعت اسلامی
