کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کی قیادت نے شہریوں، سرکاری محکموں، پولیس اور نجی اداروں و شخصیات کی جانب سے جعلی صحافیوں و آرگنائزیشنز کے حوالے سے ملنے والی مسلسل شکایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہے صحافت کے لبادہ اوڑھے افراد اور گروہوں ان دنوں سرگرم ہیں حکام ان کی صحافت اور میڈیا اداروں اور نمائندہ تنظیم بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب سے وابستگی کی تصدیق ضرور کریں، جعلی عناصر کیخلاف بلا جھجھک سخت کارروائی کی جائے۔بی یو جے کے صدر منظور احمد جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین سمیت پوری کابینہ اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید، جنرل سیکرٹری ایوب ترین و کابینہ کے دیگر اراکین کے مشترکہ بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض افراد اور گروہ صحافی اور صحافت کے نام پر سرکاری محکموں، پولیس، نجی اداروں اور شخصیات سے ملاقات کرنے کے خواہاں یا ملاقات کرکے ذاتی مفادات حاصل کرنے کوشش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب کو مسلسل شکایات اطلاعات موصول ہورہی ہیں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(برنا) سے منسلک صوبے میں صحافیوں کی واحد نمائندہ پروفیشنل تنظیم ہے جو 60 سال سے آزادی صحافت، اظہار رائے کے حق اور صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے جبکہ کوئٹہ پریس کلب بلوچستان کا سب سے بڑا اور کوئٹہ کا واحد پریس کلب ہے۔ ان سے وابستہ پروفیشنل صحافیوں کی یہاں کی صحافت میں نمایاں مقام اور قربانیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب کی قیادت یہ واضح کرتی ہے کہ جعلی صحافیوں اور گروہوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ شہری ہر عام و خاص، حکومت، سرکاری محکمے، نجی ادارے اور دیگر اہم شخصیات احتیاط برتیں خود کو صحافی کہلوانے والے کے صحافتی ادارے سے تعلق، بی یو جے یا کوئٹہ پریس کلب سے وابستگی کی ضرور تصدیق کریں۔ تعلق ثابت نہ ہونے پر وہ ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کے مجاز ہیں سخت کارروائی کی جائے۔ بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب ہر قسم کے تعاون کیلئے پر عزم ہے۔
ٹیگز:
بی یو جے
