کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس جمعرات کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے کی ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی کابینہ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ اجلاس میں بلوچستان کلائمیٹ چینج فنڈ کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک جامع پالیسی کی منظوری دی گئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے کلائمیٹ چینج فنڈ قائم کیا حالانکہ ماحولیاتی آلودگی میں صوبے کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں، سیلابوں اور قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بلوچستان سرفہرست ہے اس پالیسی کے تحت موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی صوبائی کابینہ نے صوبے کی پہلی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2026 کی بھی منظوری دی مستند اور فعال میڈیا اداروں کی حوصلہ افزائی اور سوشل میڈیا کو باقاعدہ ضابطہ کار کے تحت شامل کیا جائے گا واضح کیا گیا کہ اس پالیسی سے کسی بھی حقیقی میڈیا ہاؤس یا صحافی کے مفادات متاثر نہیں ہوں گے بلکہ شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملے گا اجلاس میں بلوچستان سسٹین ایبل فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت ماہی گیری کے شعبے میں پائیدار ترقی، وسائل کے تحفظ اور جدید طریقوں کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ بلوچستان کرسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پسنی فش ہاربر کو محکمہ فشریز میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکےکابینہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گریڈ 4 سے لے کر گریڈ 16 سے کم آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے انجام دینے کی منظوری دی اس اقدام کا اطلاق آئندہ مالی سال جون کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ زیر التواء بھرتی کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ روزگار کے مواقع بروقت فراہم کیے جا سکیں یہ اقدامات بھرتیوں میں شفافیت، میرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں گندم کے حوالے سے ایک اہم فیصلے میں کابینہ نے وفاقی حکومت کی اس پالیسی سے اتفاق کیا جس کے تحت اسٹریٹجک ریزروز کے لیے گندم نجی شعبے سے خریدی جائے گی اگر مقامی سطح پر نجی سرمایہ کار آگے نہ آئے تو وفاقی حکومت سے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی درخواست کی جائے گی تاکہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اجلاس میں بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے بطور سیڈ منی اور ایک ارب روپے بقایا جات کی مد میں فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس فنڈ کے ذریعے تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں فلاحی منصوبوں کو مزید تقویت دی جائے گی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت صوبے میں شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس کے اصولوں کو ہر سطح پر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع اور ادارہ جاتی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مؤثر پالیسی سازی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اصلاحاتی اقدامات اور گڈ گورننس کے اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی کارکردگی کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ صوبے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس ، ڈیجیٹل میڈیا پالیسی سمیت صوبے کی ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری

