لاہور (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے منصورہ آڈیٹوریم میں کل پاکستان اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے خلافت راشدہ کو زندہ کیا جبکہ مولانا مودودیؒ ایک مجدد تھے جنہوں نے اسلام کی عظیم خدمت انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج اسلام زندہ ہے تو اس میں حکمرانوں کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہ دین کی اصل قوت اور اہل ایمان کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اس وقت دیوبند اور مسلم لیگ موجود تھیں لیکن المیہ یہ تھا کہ مذہب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا رہا۔ مولانا مودودیؒ نے ڈھائی سال تک کوشش کی کہ کوئی اسلامی تحریک آگے بڑھے مگر بالآخر مجبوری کے تحت جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے عوام کے اندر رہ کر اسلام کی خدمت کی اور اپنے لٹریچر کے ذریعے امت کی رہنمائی کی۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اس دور کا ایک بڑا سانحہ یہ تھا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بھلا دیا گیا، جبکہ مسلمان کی زندگی مزاحمت کی زندگی ہے جسے اہل غزہ نے عملی طور پر ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کی دولت ہی وہ قوت ہے جس نے مظلوم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا۔انہوں نے معاشرتی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے اسلامی تہذیب کو متاثر کیا ہے، بچے گھروں میں ہوتے ہوئے بھی گھروں میں نہیں رہے، اور تعلیم اب صرف امیروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں، مہنگائی عروج پر ہے اور پٹرول کی قیمتیں عارضی جنگ بندی کے باوجود کم نہیں ہوئیں۔انہوں نے زور دیا کہ حالات حکومتیں نہیں بلکہ تحریکیں بدلتی ہیں، اس لیے اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کے حوالے نہ کریں بلکہ انہیں اسلام کا داعی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج علم بہت ہے لیکن عمل نہیں، لہٰذا نظام کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہوگا۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے اعلان کیا کہ 25 اپریل سے ممبرسازی مہم شروع ہو رہی ہے جس میں خواتین بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کا پیغام ہر گھر تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، اور ممبرسازی مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ خواتین تک رسائی حاصل کی جائے، انہیں پروگرامز میں شامل کیا جائے اور مسلسل رابطے میں رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم وہ گروہ ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب ہے، ہماری زندگی اللہ کی امانت ہے اور ہمیں کل اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، اس لیے ابھی سے تیاری کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ ہو تو خواتین سوشل میڈیا اور موبائل فون کے ذریعے دعوت کا کام جاری رکھیں۔ جماعت اسلامی ذمہ داری بڑھانے نہیں بلکہ کام کو تقسیم کرنے آئی ہے، اور اجتماعی جدوجہد ہی کامیابی کی ضامن ہے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانا ہے، اور مولانا مودودیؒ نے اسی مقصد کے تحت جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا امتی ہونا ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے جبکہ جماعت اسلامی کا کارکن ہونا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین پر اللہ کے بندوں کے درمیان اپنے محدود وجود کے باوجود اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دعوتی کام کو تیز کریں، اپنے گھروں، محلوں اور سوشل پلیٹ فارمز کو دین کی اشاعت کا ذریعہ بنائیں اور خواتین میں شعور بیدار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں نظریاتی جمود سے نکل کر وسیع تر اسلامی فکر کو اپنانا ضروری ہے، اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں تاکہ اللہ کا نظام غالب ہو سکے۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری عفت سجاد بھی موجود تھیں
حالات حکومتیں نہیں بلکہ تحریکیں بدلتی ہیں، خواتین آگے بڑھیں اور قرآن کا پیغام ہر گھر تک پہنچائیں ` ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیرا طارق
