کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کوئٹہ اور صوبے بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بالخصوص ایرانی تیل کی قیمتوں بے تحاشا اضافے پر سخت تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور مافیا کی ملی بھگت کے ذریعے عوام کو مہنگے داموں پٹرول فروخت کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک پہنچانااور دوبارہ 80روپے کم کرنا دراصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور یہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ یہ کھلم کھلا عوام کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک میں تیل کی سپلائی جاری ہے، بندرگاہوں پر جہاز لنگر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی فوری قلت درپیش نہیں اس کے باوجود قیمتوں میں راتوں رات ہوشربا اضافہ حکومتی نیت اور پالیسیوں پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلط حکمران اشرافیہ عوامی مسائل اور ان کی حالت زار سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں۔ مہنگائی پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے، عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے اور اب پیٹرول کی اس ظالمانہ قیمت میں اضافے سے ہر چیز مزید مہنگی ہو جائے گی۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس کوئی شعبہ اس تباہ کن اثر سے محفوظ نہیں رہے گا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ناکام معاشی پالیسیوں اور بدانتظامی کا خمیازہ عوام سے وصول کیا جا رہا ہے۔یہ اقدام نہ صرف معاشی بدانتظامی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہوگا، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ پہلے ہی عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں یہ فیصلہ ان کے لیے زندہ رہنا مزید مشکل بنا دے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے دباؤ کو جواز بنا کر عوام پر مزید بوجھ ڈالنا قابلِ مذمت ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی شرائط میں غریب عوام کو ریلیف دینے کی بات شامل تھی تو پھر اس کے برعکس پالیسیاں کیوں اپنائی جا رہی ہیں؟ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ عوامی مفاد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ محض بیانات اور رسمی مذمتیں اب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں اس ظلم کے خلاف عملی جدوجہد کرنی ہوگی، سڑکوں پر آنا ہوگا، اور عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر اس عوام دشمن پالیسی و فیصلے کو واپس لینے تک بھرپور مزاحمت کرنی ہوگی۔کیونکہ یہ صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے حقِ زندگی کا مسئلہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر ان قیمتوں کو واپس لیکر عوام کو ریلیف دیا جائے دیگر صورتحال میں پارٹی اپنے عوام کی تائید وحمایت سے مسلط نااہل، ناکام اور فارم47کی حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوگی۔
پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک پہنچانااور دوبارہ 80روپے کم کرنا دراصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے،پشتونخواملی عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخواملی عوامی پارٹی
