پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے پریس ریلیز میں ضلع پشین کے علاقے یارو میں پشتون قومی سیاسی تحریک اور پشتونخوانیپ کے رہنما مرحوم عالمگیر لالہ یوسفزی کے بیٹوں کے گھر پر شام تقریباً ساڑھے سات بجے ہونے والے حملے اور پیش آنے والے نہایت سنگین، انسانیت سوز اور بہیمانہ واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس واقعے کو انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور معاشرتی اقدار کے خلاف ایک کھلا اور سنگین جرم قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس میں ملوث تمام جرائم پیشہ عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس نوعیت کی بربریت کا ارتکاب کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی تفصیلات انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہیں۔ پرویز ولد جلیل اور اس کے دیگر تین ساتھی، جو چند سال قبل قلعہ عبداللہ میں قبائلی تنازعے کے بعد یارو میں آ کر آباد ہوئے تھے، طویل عرصے سے علاقے میں اسلحہ لے کر سرعام گھومتے رہے۔ متاثرہ خاندان نے 13 مارچ کو یارو کے متعلقہ تھانے کو تحریری طور پر ان جرائم پیشہ افراد کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جبکہ مقامی عوام نے بھی متعدد بار انتظامیہ کو شکایات درج کرائیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی، جس کے باعث یہ عناصر مزید بے خوف اور دلیر ہو گئے۔گزشتہ روز شام تقریباً ساڑھے سات بجے پرویز اور اس کے ساتھی عالمگیر یوسفزئی کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر ایک کم سن بچی کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر بچی کے والد ماسٹر محمد نسیم نے جان ہتھیلی پر رکھ کر مزاحمت کی۔ مزاحمت کے نتیجے میں فائرنگ اور تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں محمد نسیم ولد عالمگیر، شہریار ولد محمد رحیم اور بی بی صدرہ ولد محمد نسیم موقع پر شہید ہو گئے، جبکہ محمد نسیم کی اہلیہ شدید زخمی ہوئیں۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد پہلے پشین اور بعد ازاں کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔یہ دل خراش واقعہ علاقے کے عوام کے لیے شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بنا۔ احتجاجاً عوام نے قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے بعد متعلقہ تھانے نے ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان جرائم پیشہ قاتلوں کا مرحوم عالمگیر لالہ کے خاندان سے کسی قسم کا کوئی رشتہ یا تعلق نہیں تھا، بلکہ ملزمان زبردستی کم سن لڑکی کو اٹھانے کی غیر انسانی، غیر اسلامی اور پشتون قومی اقدار کے منافی کوشش کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں یہ المناک سانحہ پیش آیا اور تین بے گناہ افراد شہید ہو گئے۔ پارٹی نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔بیان کے مطابق شہداء کے لیے فاتحہ خوانی یارو کی مرکزی مسجد میں کی جائے گی۔ مرحوم عالمگیر یوسفزئی اپنے خاندان اور علاقے کے ایک معزز، باوقار اور بااثر رکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک انفرادی یا ذاتی جرم نہیں بلکہ حکومتی نااہلی، انتظامی غفلت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سستی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ پارٹی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری، مؤثر اور سخت کارروائی کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر عوام اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج، دھرنوں اور دیگر جمہوری اقدامات پر مجبور ہوں گے۔پارٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف محض گرفتاری کافی نہیں، بلکہ انہیں قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جانی چاہیے، تاکہ آئندہ کسی کو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ ہو۔ یہ واقعہ پورے علاقے کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ اگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوتاہی برتیں گے تو عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہونے پر مجبور ہوں گے۔
یارومیں مرحوم عالم گیر لالہ یوسف زی کے بیٹوں کے گھر پرحملہ نہایت سنگین اور انسانیت سوز ہےواقعہ میں انتظامیہ کی غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ٗ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا نیشنل
