کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں حکومت کی جانب سے پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں سے متعلق مجوزہ قانون ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 پر گہری تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ قانون کے تحت ان اکیڈمیوں کو درپیش اصولی، انتظامی اور قانونی خدشات نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا نہ صرف علمی و ادبی حلقوں کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ صوبے کی زبانوں اور ثقافتی ورثے کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیاں دراصل سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ خودمختار علمی و ادبی ادارے ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے کی زبانوں، ادب، تاریخ اور ثقافت کے فروغ میں نمایاں اور تاریخی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان اداروں نے نہ صرف مقامی زبانوں کے ادب کو محفوظ کرنے میں اہم خدمات سرانجام دی ہیں بلکہ نئی نسل میں مادری زبانوں کے احترام اور فروغ کے لیے بھی قابل قدر کام کیا ہے۔ پریس ریلیز میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ قانون کے تحت ان اداروں کو بیوروکریسی کے براہِ راست انتظامی کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ان اکیڈمیوں کی خودمختاری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے علمی و ادبی آزادی، تخلیقی سرگرمیوں اور فکری ماحول کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ علمی و ادبی ادارے اسی وقت ترقی کرتے ہیں جب ادیبوں، شاعروں، محققین اور دانشوروں کو آزاد اور خودمختار ماحول میسر ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ان اداروں کو سرکاری بیوروکریسی کے ماتحت کر دیا گیا تو اس سے نہ صرف ان کی علمی خودمختاری متاثر ہوگی بلکہ ان اداروں کے بنیادی مقاصد اور ان کی فکری و ادبی روح بھی کمزور پڑ جائے گی۔ اس طرح کے اقدامات دراصل زبانوں کے فروغ کے بجائے ان کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بیان میں اکیڈمیوں کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیاں دراصل ہمارے معاشرے کی قومی و ثقافتی وراثت کے اہم ستون ہیں۔ مادری زبانیں کسی بھی قوم کی شناخت، تاریخ اور تہذیب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر ہم اپنی زبانوں، ثقافت اور تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ان علمی و ادبی اداروں کی خودمختاری کا تحفظ ناگزیر ہے۔ پریس ریلیز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اکیڈمیوں کے معاملات ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم کے سپرد ہی رہنے چاہئیں۔ علمی و ادبی سرگرمیاں کبھی بھی سرکاری دباؤ یا انتظامی احکامات کے تحت پروان نہیں چڑھ سکتیں بلکہ اس کے لیے آزاد فکری ماحول، علمی مکالمہ اور تخلیقی آزادی ضروری ہوتی ہے۔ بیان میں پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں کی دہائیوں پر محیط علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر حکومت واقعی خطے کی زبانوں اور ثقافت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو ان اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے بجائے انہیں مزید خودمختاری، وسائل اور سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ اپنی خدمات کو مزید وسعت دے سکیں اور نئی نسل کو اپنی زبانوں اور ثقافتی ورثے سے جوڑ سکیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اکیڈمیوں کے نمائندہ وفد نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی زبانوں، ادب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور ان علمی و ادبی اداروں کی خودمختاری پر کسی بھی قسم کی قدغن قبول نہیں کریں گے۔ پریس ریلیز میں پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی زبانوں کے تمام لکھاریوں، شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم سے اپیل کی گئی کہ اس حساس اور تاریخی مرحلے پر خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ اپنی آواز بلند کریں۔ سوشل میڈیا سمیت ہر علمی و ادبی فورم پر اپنی زبانوں اور اکیڈمیوں کے حق میں آواز اٹھائیں اور اپنے علمی و ادبی اداروں کے دفاع کے لیے متحد ہو جائیں۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ یہ اکیڈمیاں محض ادارے نہیں بلکہ ہماری زبانوں، ادب، تاریخ اور ثقافتی شناخت کی زندہ علامت ہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں غفلت اور بے حسی کی نظر سے دیکھیں گی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اپنی زبانوں، ادب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی جدوجہد کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہم اپنے علمی و ادبی اداروں کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں سے متعلق مجوزہ قانون ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 پر گہری تشویش اور تحفظات کا اظہار

