کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) 4 مارچ کو منائے جانے والے ورلڈ انجینئرنگ ڈے کے موقع پر پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) بلوچستان کے وائس چیئرمین میر مجیب الرحمٰن مری نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں انجینئرنگ گریجویٹس اور ٹیکنیکل نوجوانوں کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انجینئرنگ جامعات، بالخصوص BUET Khuzdar اور BUITEMS میں طلبہ کے داخلوں میں کمی تشویشناک امر ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجہ صوبے میں انجینئرنگ گریجویٹس کے لیے روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ جب قابل اور رجسٹرڈ انجینئرز بے روزگار رہتے ہیں تو نوجوان نسل انجینئرنگ تعلیم کی طرف مائل نہیں ہوتی، جو صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے خطرناک ہے۔میر مجیب مری نے کہا کہ انجینئرز اور ٹیکنیکل ماہرین انفراسٹرکچر، معدنیات، توانائی، آبپاشی، پبلک ورکس اور صنعتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں سیندک، سیاہ ڈِق اور Reko Diq جیسے معدنی ذخائر موجود ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں تیل و گیس کے وسیع امکانات بھی پائے جاتے ہیں اور طویل ساحلی پٹی بھی صوبے کی معاشی اہمیت کو بڑھاتی ہے۔ تاہم اگر مقامی طور پر تربیت یافتہ نوجوانوں کو مواقع فراہم نہ کیے گئے تو صوبہ اپنی حقیقی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بیرونی افرادی قوت پر حد سے زیادہ انحصار نہ صرف منصوبوں کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ بیرونی ماہرین مقامی جغرافیائی، ماحولیاتی اور سماجی حالات سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس مقامی انجینئرز زمینی حقائق سے واقف اور صوبے کی ترقی میں دیرپا دلچسپی رکھتے ہیں۔میر مجیب الرحمٰن مری نے کہا کہ انجینئرنگ گریجویٹس میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری برین ڈرین کا سبب بن رہی ہے، جس سے صوبے کی طویل المدتی ترقی اور ادارہ جاتی مضبوطی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے حکومت بلوچستان سے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا:صوبائی انجینئرنگ ایمپلائمنٹ پالیسی کی تشکیل، جس کے تحت تمام ترقیاتی منصوبوں میں مقامی PEC رجسٹرڈ انجینئرز کی لازمی شمولیت یقینی بنائی جائے۔صوبائی محکموں میں فریش گریجویٹس کے لیے ٹرینی انجینئر پروگرام کے تحت مخصوص کوٹہ مختص کیا جائے۔صوبائی ٹیکنیکل کیڈر کا قیام تاکہ انجینئرنگ اور ٹیکنیکل گریجویٹس کو منظم طریقے سے روزگار فراہم کیا جا سکے۔سرکاری محکموں اور انجینئرنگ جامعات کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ تعلیمی نظام کو مارکیٹ اور ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں ایک جامع اور عملی پالیسی کے ذریعے نہ صرف انجینئرنگ تعلیم پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر، کم خرچ اور پائیدار انداز میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بلوچستان فوری اور عملی اقدامات اٹھا کر صوبے کے انجینئرنگ گریجویٹس کے مستقبل کو محفوظ بنائے گی اور بلوچستان کے ٹیکنیکل ڈھانچے کو مضبوط کرے گی۔
ورلڈ انجینئرنگ ڈے کے موقع پر میر مجیب الرحمٰن مری کا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے نام اہم مطالبہ

ٹیگز:
میر مجیب الرحمن مری
