کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری احمد خان لونی نے اپنے اخباری بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ہرنائی اور ضلع سبی کے درمیان منظور شدہ سڑک کی فوری تعمیر کو یقینی بنایا جائے اور طویل عرصے سے بند ریلوے ٹریک کو بھی بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ سبی اور ہرنائی کے درمیان تقریبا 58 میل کا فاصلہ ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ دونوں اضلاع کو ملانے کے لیے آج تک کوئی براہِ راست سڑک موجود نہیں۔ ماضی میں ان اضلاع کے درمیان ریلوے ٹریک ہی آمدورفت کا بنیادی اور واحد ذریعہ تھا، لیکن 2006 میں صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں ریلوے لائن اور متعلقہ اسٹیشنوں کی مرمت و بحالی کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، تاہم مبینہ بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث ریلوے لائن کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی، اور سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر تاحال ٹرین سروس بحال نہیں کی جا سکی۔ حالانکہ یہ ٹرین ملک کی منافع بخش ٹرینوں میں شمار ہوتی تھی اور قومی خزانے کے لیے آمدن کا اہم ذریعہ تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹرین کی بندش سے نہ صرف عوام بلکہ تاجر برادری بھی شدید مشکلات اور مایوسی کا شکار ہے۔ ضلع ہرنائی قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ یہاں کی مشہور کول مائنز سے نکلنے والا کوئلہ ماضی میں ریلوے لائن کے ذریعے سبی، پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں تک با آسانی پہنچایا جاتا تھا، جس سے اخراجات کم اور کاروباری سرگرمیاں تیز رہتی تھیں۔ تاہم اب یہ کوئلہ ہرنائی، زیارت، لورالائی اور ڈیرہ غازی خان کے طویل اور دشوار گزار راستوں سے پنجاب منتقل کیا جاتا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور مقامی کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ اسی طرح ہرنائی کی معیاری سبزیاں، تازہ پھل اور گنا ملک بھر میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں، لیکن مہنگی اور طویل نقل و حمل کے باعث انہیں بروقت منڈیوں تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا، جس سے کاشتکاروں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر سبی-ہرنائی شاہراہ تعمیر کر دی جائے تو دونوں اضلاع کی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی، تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، بے روزگاری میں کمی واقع ہوگی، اور عوام کو سستے داموں اشیائے خوردونوش اور مویشی میسر آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی معیشت بھی مستحکم ہوگی اور علاقائی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع ہرنائی کا ڈویژنل ہیڈکوارٹر سبی میں قائم ہے، جس کے باعث عوام کو سرکاری امور، عدالتی معاملات اور دیگر انتظامی کاموں کے لیے سبی آنا پڑتا ہے۔ اسی طرح سبی میں قائم ڈویژنل ٹیچنگ اسپتال پورے ڈویژن کے لیے ایک اہم طبی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہرنائی، سپن تنگی، ببرک، کچھ، سانگان، کٹ منڈائی اور دیگر علاقوں کے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ تاہم براہِ راست سڑک نہ ہونے کے باعث عوام کو طویل، پیچیدہ اور مہنگا سفر کرنا پڑتا ہے، جو بالخصوص مریضوں، بزرگوں اور خواتین کے لیے شدید اذیت کا باعث بنتا ہے۔ اس وقت ہرنائی سے سبی پہنچنے کے لیے عوام کو ضلع زیارت، ضلع پشین، ضلع کوئٹہ، ضلع مستونگ اور ضلع بولان سے گزر کر سبی جانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت بلکہ ایندھن اور کرایوں کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہی صورتحال واپسی کے سفر میں بھی درپیش رہتی ہے۔ اگر سبی اور ہرنائی کے درمیان محض 58 میل طویل براہِ راست سڑک تعمیر کر دی جائے تو آمدورفت میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی، قیمتی وقت کی بچت ہوگی، اور تجارت، تعلیم، صحت اور سماجی روابط کے شعبوں میں مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یہ علاقہ خاصی آبادی پر مشتمل ہے اور قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باعث سیاحت کے فروغ کی بھی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ سڑک کی تعمیر سے سیاحتی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی، مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقہ مجموعی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ آخر میں احمد خان لونی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ سبی-ہرنائی سڑک کی تعمیر اور ریلوے ٹریک کی بحالی کو ہنگامی بنیادوں پر عملی جامہ پہنایا جائے، تاکہ دونوں اضلاع کے عوام کو درپیش دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہو سکے اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔
ہرنائی اوسبی کے درمیان منظور شدہ سڑک کی فوری تعمیر کو یقینی بنایا جائے، احمد خان لونی

ٹیگز:
احمد خان لونی
