کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پارٹی کے زیرِ اہتمام صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں تقاریب، سیمینارز، مکالمے، ادبی نشستیں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد مادری زبانوں کے تحفظ، ترویج اور عملی نفاذ کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا، لسانی حقوق کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کرنا اور عوام میں اپنی زبانوں سے وابستگی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 21 فروری دنیا بھر میں اُن زبانوں کی یاد، احترام اور بقا کی جدوجہد کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے جو اپنی شناخت اور وجود کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ مادری زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی روح، تاریخی تسلسل، فکری ارتقاء اور اجتماعی شناخت کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں مادری زبان کو نظرانداز کیا جائے وہاں فکری انتشار، تعلیمی پسماندگی، ثقافتی کمزوری اور احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ مادری زبانوں کو نہ صرف آئینی تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ عملی طور پر انہیں ریاستی و تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ بیان کے مطابق کوئٹہ میں 21 فروری کو تختانی بائی پاس پر ایک مرکزی اور جامع سیمینار منعقد ہوگا، جس میں پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین، ادباء، شعراء، اساتذہ، وکلاء، طلبہ رہنما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات خطاب کریں گی۔ مقررین مادری زبانوں کی تاریخی اہمیت، عالمی سطح پر لسانی تحریکوں کے پس منظر، تعلیمی نظام میں مادری زبان کے کردار اور قومی ترقی میں زبان کی بنیادی حیثیت پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ اس موقع پر پشتو سمیت دیگر علاقائی زبانوں کی ادبی خدمات، علمی سرمایہ اور عصری تقاضوں کے مطابق ان کی ترقی کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم بچوں کی ذہنی نشوونما، فہم و ادراک، تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ عالمی تحقیق سے یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ جو بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ دیگر زبانوں کو بھی زیادہ بہتر انداز میں سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یکساں، معیاری اور ہمہ گیر تعلیمی نظام کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مادری زبان کو ابتدائی اور ثانوی سطح پر بطور ذریعۂ تعلیم اختیار کیا جائے اور اس کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں بالخصوص پشتو زبان کو ملک میں سرکاری، قومی، تعلیمی اور عدالتی زبان کا درجہ دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ پشتو ایک قدیم، وسیع اور بھرپور ادبی روایت کی حامل زبان ہے جس میں کلاسیکی اور جدید ادب کا گراں قدر سرمایہ موجود ہے۔ ملک میں پشتو بولنے والوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر یہ ناگزیر ہے کہ سرکاری دفاتر، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں پشتو کو عملی حیثیت دی جائے تاکہ عوام کو اپنی زبان میں تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی حاصل ہو سکے اور وہ احساسِ بیگانگی کا شکار نہ ہوں۔ پارٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مادری زبانوں کے فروغ کے لیے واضح، جامع اور مؤثر لسانی پالیسی مرتب کریں، نصاب میں علاقائی زبانوں کو مناسب مقام دیں، اساتذہ کی تربیت اور تحقیقی اداروں کے قیام پر خصوصی توجہ دیں اور سرکاری سطح پر زبانوں کے تحفظ و ترویج کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کریں۔ مزید برآں، عدالتی نظام اور انتظامی امور میں قومی و علاقائی زبانوں کے استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہری کو زبان کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ باوقار طریقے سے اپنے حقوق کا دفاع کر سکے۔ بیان کے اختتام پر پارٹی کے کارکنوں، اہلِ قلم، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 21 فروری کے پروگراموں میں بھرپور شرکت کریں اور مادری زبانوں کے تحفظ، ترویج اور آئینی و عملی حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر سطح پر مادری زبانوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور لسانی و ثقافتی تنوع کے تحفظ کو قومی ترقی، جمہوری استحکام اور سماجی ہم آہنگی کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔
21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پارٹی کے زیرِ اہتمام صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں تقاریب، سیمینارز، منعقد کیے جائیں گے : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا نیشنل
