کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں گرینڈ الائنس کے مطالبات کے حق میں اور حکومتی و ریاستی کریک ڈاؤن کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کی کانفرنس میں صوبے کی اہم سیاسی جماعتوں طلباو مزدور تنظیموں اور سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی سیکرٹریز جاوید کاکڑ رشید ناصر ضلع کوئٹہ کے صدر ثناء اللہ کاکڑ نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ مرکزی ترجمان علی احمد لانگو پشتون خوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سید قادر آغا صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی صوبائی سنئیر نائب صدر چیئرمین اللہ نورخان بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری موسیٰ جان بلوچ ضلع کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان عنایت شاہ صورت خان کاکڑ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی کونسل رکن ترانی ہزارہ گرینڈ الائنس کے رہنما محمد اسماعیل کاسی مجیب اللہ غرشین سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی آل پارٹیز کانفرنس میں گرینڈ الائنس کی جانب سے پیش کیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ پر تفصیلی اور سنجیدہ غور و خوض کیا گیا جس کے بعد تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر ان مطالبات کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کیابعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی،ڈاکٹر اسحاق بلوچ،موسی بلوچ فقیر خوشحال کاسی، احمد جان خان،ترانی ھزارہ،محمد اسماعیل کاسی نے کہا کہ گرینڈ الائنس سے وابستہ سرکاری ملازمین کے جائز اور آئینی مطالبات کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں قابلِ مذمت اور شرمناک ہیں حکومتی کریک ڈاؤن ملازمین پر تشدد اور انہیں جیلوں میں ڈالنا اس امر کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت اپنے ہی شراکت داروں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں 200ملازمین گرفتار 38 پروفیسرز معطل جبکہ 40کو وارننگ دی گئی ہے جو مارشل لاء دور کی یاد دلاتا ہے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فارم47کے پیدوار ہائبرڈ رجیم شہا سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے سے گریز کریں یہ ناروا اور گمراہ کن صورتحال کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ملازمین کیساتھ کئے گئے وعدوں سے انحراف کے پیچھے کونسی قوتیں کار فرما ہے انہوں نے واضح کیا کہ گرینڈ الائنس کے مطالبات میں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ تنخواہوں میں موجود تفریق کا خاتمہ پنشن رولز میں اصلاحات ریٹائرمنٹ کے خودکار نظام کا نفاذ سرکاری اداروں کی نجکاری اور ایڈہاک تعیناتیوں کا خاتمہ ہاؤس رینٹ میڈیکل اورکنوینس الاؤنس میں اضافہ اے جی آفس سے اختیارات کی اضلاع کو منتقلی اپ گریڈیشن ٹائم اسکیل کا نفاذ لیبر قوانین کے تحت ملازمین کا تحفظ یونینز اور ایسوسی ایشنز پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ملازمین کے لیے ہاؤس ریکوزیشن و یوٹیلیٹی الاؤنس اور کوئلہ کانوں میں حادثات کی روک تھام جیسے بنیادی نکات برحق ہیں اصغر خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ ان مطالبات کے حل کیلئے کل اعلی حکومتی حکام سے سنجیدہ بامقصد وحل طلب نشستوں کی کوشش کی جائے گی تاکہ گرینڈ الائنس کو درپیش مسائل کا دیرپا حل نکالاجا سکے جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اہم اجلاس آج جمعہ 12بجے نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوگا جس میں 26 جنوری کو صوبے کے تمام اضلاع (ماسوائے ضلع کوئٹہ) میں احتجاجی مظاہروں کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ 3 فروری کو سہہ پہر 3بجے آل پارٹیز اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہوگا جس میں ضلع کوئٹہ میں 4 فروری کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان پر غور و وض کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ آل پارٹیز اور دیگر جمہوری قوتیں ملازمین کے آئینی قانونی اور معاشی حقوق کے لیے ہر فورم پر
جدوجہد جاری رکھیں گی اور کسی بھی قسم کے جبر ناانصافی اور استحصال کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی ایک سوال کے جواب میں اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ فوراً سے پیشتر حکومت تمام ملازمین کو باعزت رہا ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کردیں اس کے لئے ہر فورم وہ چاہے اسمبلی سینیٹ قومی اسمبلی فلور ہو گرینڈ الائنس کے حق میں آواز اٹھائی جائیگی اگر ان نکات پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو آل پارٹیز کی جانب سے ملازمین کیساتھ اظہار یکجہتی کے طور پرتما آپشن پہلی جام شٹر ڈاؤن قومی شاہراہوں پر دھرنے سمیت سخت سے سخت لائحہ عمل اپنایا جائیگا
200ملازمین گرفتار 38 پروفیسرز معطل جبکہ 40کو وارننگ دی گئی ہے جو مارشل لاء دور کی یاد دلاتا ہے،اصغر خان اچکزئی، ڈاکٹر اسحاق بلوچ

ٹیگز:
اسحاق بلوچ
