کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) سْپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے قائداعظم بیرسٹر محمد علی جناح بانی پاکستان کی 149ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تہنیتی پیغام میں انکی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اصولوں و جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور قوم کو ان کے تین نمایاں اصولوں کی طرف متوجہ کیا ہے جس میں انھوں نے ایمان،اتحاد اور تنظیم پر زور دیا ہے اس سے قبل 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مینار پاکستان منٹو پارک میں قیام پاکستان کی قرارداد کے اصولوں و ضوابط کو آفاقی حیثیت کے تناظر میں دیکھتے ہوئے اس وقت اس کو مسلم اکثریتی علاقے کے تسلیم شدہ حیثیت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا آج بھی یہی اصول قومیتوں کی اکثریت کو بھی وہی حق دیتا ہے
جو مطالبہ تاج و راج برطانیہ سے تھا وہ آج بھی آزادی تو نہیں خودمختاری کیلئے کارآمد ہے اسی طرح 11 اگست 1947 کو پہلی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کے اندر مذہبی تفریق کے خاتمے قومی شناخت کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے انصاف اور صرف انصاف کو مطمح نظر رکھے جانے کا اعادہ کیا ہے اسی طرح 14 جون 1948 کو سٹاف کالج کوئٹہ میں ملکی و بین الاقوامی افواج کے افسروں سے خطاب کے دوران واضح طور پر سول انتظامیہ و افواج پاکستان کو اپنے اپنے حدود و دائرے میں کام کرنے کی ھدایت کرتے ہوئے سولین بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے 78 سال بعد ملک کا ایک بڑا حصہ گنوانے کے باوجودہم بالغ نظری کی بجائے کوتاہ نظری کا شکار ہیں جب تک قائد کے اصولوں کو من و عن تسلیم و اس پر اخلاص کے ساتھ عمل نہیں کیا جائے گا یہ مْلک قائد کا پاکستان نہیں غلامان برطانیہ کا تسلسل سمجھا جائے گا جس آزادی کیلئے قوم نے جدوجہد کی تھی وہ رائگاں ہوتا ھوا نظر آرہا ہے اس کے تدارک و دفاع کرنے کی باہمی افھام و تفھیم سے کوششوں کی ضرورت ہے باہمی ھم آہنگی و یکجہتی و بھاء چارگی و ملی جذبے کیلئے امن و آشتی و قومی جذبے تحت ہر قوم و علاقے و خطے کو یکساں جان و مال و عزت و آبرو و حقوق و شناخت کا تحفظ کا احساس و اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے ریاست و حکومت کو عملی مظاہرہ کرنا ہوگا

