لاہور (ڈیلی گرین گوادر)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ،صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید،صدر لاہور عظمی عمران نے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ ولادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ قائد اعظمؒ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے امید، عزم اور جدوجہد کی علامت تھے۔ ان کی مدبرانہ قیادت، اصول پسندی اور غیر متزلزل عزم ہی وہ بنیاد تھی جس پر پاکستان کی ریاست قائم ہوئی۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جو اسلامی اقدار، آئین کی بالادستی، سماجی انصاف اور مساوی شہری حقوق پر مبنی ہو۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد اقتدار پر قابض طبقوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی، جس کے باعث پاکستان قائد اعظمؒ کے اصل خواب کی مکمل تعبیر نہ بن سکا۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے زور دیا کہ آج پاکستان کو دوبارہ اسی فکری سمت کی ضرورت ہے جس کا تعین قائد اعظمؒ نے کیا تھا، جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو، خواتین کو تعلیم، وقار اور معاشی خودمختاری حاصل ہو اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو ایک ایسی فلاحی اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے تھے جہاں کمزور طبقے محفوظ ہوں، عدل و انصاف کا نظام مضبوط ہو اور ریاست عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ دار ہو۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قوم خود احتسابی کے ذریعے نظام میں مثبت تبدیلی لائے۔سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین نے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قائد اعظمؒ کے افکار، دیانت، نظم و ضبط اور قانون پسندی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور پاکستان کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ یوم قائد اعظمؒ پر یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کو ایک پرامن باوقار اور انصاف پر مبنی ریاست بنانے کے لیے نظام کو بدلنے کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے، تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں قائد اعظمؒ کا پاکستان بن سکے۔
قائد اعظمؒ نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جو اسلامی اقدار، آئین کی بالادستی، سماجی انصاف اور مساوی شہری حقوق پر مبنی ہو `ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
حمیرا طارق
