کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)چیف آف ساراوان اور سابق وزیر اعلی نواب محمد اسلم رئیسانی نے مستونگ کے دو قبائلی دیہات اسپلنجی اور گونڈین کو حکومت کی جانب سے بلڈوز کیے جانے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے اور طویل عرصے سے قائم قبائلی روایات اور رواج کو پامال کرتا ہے۔نواب رئیسانی نے کہا کہ گھروں اور معاش کے خلاف یہ حملہ صرف جسمانی نقصان نہیں بلکہ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری بھی پامال کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو طاقتور اداروں یا دیگر غیر ضروری اقدامات سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات شہریوں کے ریاست پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور معاشرتی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے فوری اپیل کی کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کرے اور قبائلی علاقوں میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کا ریاست پر اعتماد قائم رہے۔ نواب محمد اسلم رئیسانی نے اس موقع پر کہا کہ قبائلی آبادی کے حقوق اور روایات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس میں کسی قسم کی غفلت برتنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
نواب محمد اسلم رئیسانی کا مستونگ میں دو قبائلی دیہاتوں کو بلڈوز کرنے پر شدید مذمت

ٹیگز:
محمد اسلم
