کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان کے شہر سریاب میں شدید سردی کے باعث شہری اور تاجربرادری سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر میں بجلی کی بار بار ٹرپنگ اور گیس کے کم پریشر نے نہ صرف گھریلو زندگی متاثر کی ہے بلکہ کاروبار اور روزمرہ کے معمولات بھی مفلوج ہو گئے ہیں۔شدید سردی میں گھرانے کانپ رہے ہیں اور لوگ ایندھن کی بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایل پی جی اور لکڑی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کئی گھروں میں بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے گرمائش کا مناسب انتظام موجود نہیں، جس سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔شہریوں نے کہا کہ سردی اور توانائی کے بحران نے ان کی زندگی کو دوہری تکلیف میں بدل دیا ہے اور ہر گزرتا دن ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔ عوامی اور کاروباری حلقوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ اگر توانائی کی فراہمی میں بہتری نہ آئی تو شہر میں کاروبار اور روزگار مکمل طور پر متاثر ہو سکتے ہیں اور معیشت پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے۔شہریوں نے چیف کیسکو اور چیف سوئی سدرن گیس کمپنی کے احکام بالا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگ سردی کے اس خوفناک موسم میں بچوں، بزرگوں اور ضعیف العمر طبقات کی زندگی کے لیے شدید خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں اور انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے توانائی کی روانی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کا بنیادی حقِ زندگی محفوظ رہے۔
سریاب میں سردی کے شدید اثرات، بجلی و گیس کی کمی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی

ٹیگز:
بجلی و گیس
